اک دیا اور بجھا، اور بڑھی تاریکی

ایمان و عزیمت کا حسین پیکر
جنوری 12, 2019
ملت کو گھن کی طرح کھانے والا مرض
فروری 27, 2019

اک دیا اور بجھا، اور بڑھی تاریکی

حدیث شریف میں صریح علامات قیامت میں سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ علم اٹھالیاجائے گا یعنی اس روئے زمین سے علمائے ربانیین اٹھتے جائیں گے۔

۱۶؍جنوری ۲۰۱۹ء؁ مطابق ۹؍جمادی الاول ۱۴۴۰ ھ؁ بروزبدھ نماز فجر سے کچھ قبل معروف عالم دین، صاحب طرز عربی ادیب معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھنؤ وجنرل سکریٹری رابطہ ادب اسلامی مولاناسید محمد واضح رشید حسنی ندوی رب کریم کے جوارِ رحمت میں منتقل ہوگئے ،انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

مولاناسید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے نامورماموں مفکر اسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ اورشیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریاکاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست گرفتہ تھے، اس لیے ان کے اندر ماموں جان کی وسعت علم و فکر اورحضرت شیخ الحدیث کی نظر شفقت ومحبت کے روحانی اثرات نمایاں تھے۔

وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعدکافی عرصہ تک آل انڈیادہلی ریڈیواسٹیشن کے شعبۂ عربی میں کام کرتے رہے، گویہاںتنخواہ زیادہ تھی، لیکن خاندانی شرافت و نجابت کی وجہ سے وہاں کے ماحول سے غیرمطمئن نہیں بلکہ بیزار تھے، انھوں نے حضرت شیخ الحدیثؒ سے اس کاذکر کیا، حضرت شیخ نے ہی مفکراسلام حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے جواس وقت ندوۃ العلماء کے ناظم تھے، فرمایاکہ ان کی زبان اور علم وادب سے ندوہ کوفائدہ اٹھاناچاہیے، حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کو بعض مصالح کی بناپر اپنے عزیز بھانجہ مولاناسید محمد واضح رشید حسنی ندوی کو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ منتقل کرنے میں تردوہوا،لیکن حضرت شیخ الحدیث کے زوردینے پران کوندوہ بلالیا ،اوریوںمولانا مرحوم ریڈیوکی بڑی تنخواہ چھوڑ کریہاں کی معمولی تنخواہ پر ندوہ منتقل ہوگئے ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کوان کے علم وفضل کاغیر معمولی فائدہ پہنچا ،طلبہ نے ادب وانشاء میں ان سے خوب فائدہ اٹھایا،طلبہ کی ذہنی وفکر ی تربیت بڑی حکمت وبصیرت کے ساتھ فرماتے، چنانچہ مولانامرحوم کے سینکڑوں شاگردوں نے بڑی ترقی کی، کچھ عرصہ کے بعد وہ پندرہ روزہ ’’الرائد‘‘ اورماہنامہ ’’البعث الاسلامی ‘‘کی مجلس ادارت میں شامل ہوگئے اوران کے فکری وادبی مضامین سے علماء،دانشوران اور طلبہ کو بہت فائدہ پہنچا۔

پھرانھوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی نصابی کتابوں کی تیاری میں بھی اپنے محبوب بھائی حضرت مولاناسید محمدرابع حسنی ندوی کے ساتھ خوب حصہ لیا، اور’’تاریخ الأدب العربی ،العصر الاسلامی ‘‘،’’أعلام الأدب ا لعربی فی العصرالحدیث‘‘ ’’مصادرالأدب العربی ‘‘،’’ تاریخ النقد للأدب العربی‘‘جیسی اہم کتابیں تصنیف کیں،ان نصابی کتابوں کے علاوہ اردو اورعربی میں چھوٹی بڑی تقریباً ڈھائی درجن کتابیں لکھیں ،آخری کتاب جوانتقال سے بس ایک دن پہلے طبع ہوکر آئی،وہ ’’صحابہ کرامؓ کی مثالی زندگی‘‘ تھی ۔

مولاناڈاکٹرعبداللہ عباس ندوی کے انتقال کے بعد سے وہ ندوۃ العلماء لکھنؤکے معتمد تعلیم رہے اورنہایت خاموشی وسنجیدگی کے ساتھ تاحین حیات ہر ممکن اس کا حق اداکرتے رہے ۔مولانامرحوم اپنے دینی، دعوتی اورتربیتی مضامین کے ساتھ اسلام مخالف مضامین کوبڑے واضح اورمدلل اندازمیں بے نقاب کرتے، ان کے وقیع مضامین ندوہ کے عربی رسائل’’الرائد‘‘اور’’البعث الاسلامی‘‘میںچھپتے تھے،افادۂ عام کے لیے’’ تعمیرحیات‘‘ میں ان مضامین کے ترجمے بھی شائع ہوتے اور پھر وہ مختلف اخبارات میں نقل ہوتے ۔ مولانامرحوم ملک وبیرون ملک کے سیمینار وں میں بھی شریک ہوتے اوربڑے مفید اورمعلوماتی مقالے پیش کرتے رہے، راقم سطور نے جب ’’تعمیرحیات ‘‘کی ذمہ داری سنبھالی تواس کے لیے مضامین لکھوائے ،کچھ عرصے کے بعد مولانامرحوم نے ابوہاجرکے نام سے مضامین لکھنے شروع کیے، ہمیں کچھ خیال نہ آیاکہ ابوہاجرلکھنے کی وجہ پوچھیں، انتقال سے دوہفتہ پہلے ہم دونوں کی گفتگوہورہی تھی ،’’تعمیرحیات‘‘ کاذکر آیا تو فرمایا کہ کچھ دنوں ہم نے ابوہاجرکے نام سے مضامین لکھے ہیں ، پھرابوہاجرلکھنے کی وجہ یہ بیان کی کہ ہماری ایک ہی بیٹی تھی، ہاجرہ اس کانام تھا،بچپن ہی میں اس کا انتقال ہوگیا،اس سے ہم کو بڑی محبت تھی ،وہ بہت یاد آتی تھی، اسی یاد سے ہم نے ابوہاجرلکھناشروع کیا ۔

مولانامرحوم بڑے حساس اوررقیق القلب تھے، فرمایاکہ دہلی کے زما نۂ قیام میں جعفرمسعود کومیعادی بخارہوگیا، ڈاکٹر وں نے کھانابندکردیاتھا ،ہم اور جعفرکی والدہ ان سے چھپاکرباورچی خانہ میں کھاناکھاتے ،ہم کھانے بیٹھتے تو جعفریاد آجاتے اورہم سے کھانا کھایا نہ جاتا،اہلیہ سمجھاتیں کہ کھائیے ،جعفراچھے ہوجائیں گے تو کھائیں گے !زندگی میں یہ سب ہوتارہتا ہے۔ بھائی سے ا ن کی محبت کایہ عالم تھا کہ ان کوذرہ تکلیف ہوتی تومولانامرحوم کوبے چین ہوتے دیکھا کہ نمازاوردعاؤں میں مشغول ہوگئے۔ مولانامرحوم نہایت حلیم بھی تھے، ایک مرتبہ’’ تعمیرحیات‘‘ میں مضمون چھپاتواس میں کچھ پروف کی غلطیاں رہ گئیں، ہم بہت پریشان ہوئے کہ مولا ناکوکیاجواب دیں گے، مگرذرابھی ناراض نہیں ہوئے بس اتنا فرمایاکہ کچھ پروف کی غلطیاں رہ گئیں۔ مولانامرحوم بہت خاموشی کے ساتھ اپناکام کرتے تھے، طبیعت میں سادگی تھی، اپنے کونمایاں کرنے سے بہت بچتے تھے، اسٹیج پربھی بیٹھنے سے بچنے کی کوشش کرتے اوراگراسٹیج پرجاناپڑجاتااورکچھ بولنے کی بھی نوبت آتی توگفتگوکے اندازمیں ایسی علمی باتیں کرتے کہ حاضرین کوتعجب ہوتا،کبھی جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے سامنے بات کرنے کی نوبت آجاتی تومختلف پہلوؤں سے ایسی پرازمعلومات باتیں کرتے کہ وہ حیران رہ جاتے کہ ایک عالم د ین ایسی ہمہ جہت معلومات رکھتاہے ؟مولاناکی باتوں میں تنقید واستخفاف کااندازبالکل نہیں ہوتاتھا،اس لیے سامعین کوکسی طرح گرانی نہیں ہوتی تھی،ہرجگہ اعتراف وآفریں ہی کے جذبات پائے جاتے تھے۔

مولانامرحوم ہمارے بزرگ تھے ،ہم ان کی علمی باتوں اوراسلوب تحریرسے فائدہ اٹھاتے لیکن مولانابربنائے شفقت ہمارے ساتھ رفیقوں جیسامعاملہ فرماتے ،بہت سی گھریلو اورنجی باتوں کابھی ہم سے تذکرہ کرتے جیساکہ اوپرابوہاجرکی وضاحت میںگذرا،اللہ تعالیٰ نے مولانامرحوم کوبڑی خوبیوں سے نواز ا تھا۔

اس میں ان کے عظیم المرتبت ماموں جان کی تعلیم وتربیت ،نانی مرحومہ خیرالنساء بہترؔ اوروالدہ ماجدہ سیدہ امۃ العزیز کی دعاؤں اور آرزؤوںکا بڑادخل تھا، جس کوان کے بڑے بھائی بانی مدیرماہنامہ’’رضوان‘‘لکھنؤ حضرت مولاناسید محمدثانی حسنی ؒ نے مناجات کے سانچہ میں اس طرح ڈھالا ہے    ؎

الٰہی واسطہ دیتی ہوں تیری شانِ عالی کا

مری اولاد کو علم و عمل میں آسماں کر دے

انھیں اہل نظر کی راہ کا کر رہبر کامل

دلوں کے کارواں کا تو امیر کارواں کردے

بلائے ناگہانی سے بچا ان کو سدا یا رب

ہر اِک آفت سے تو محفوظ ان کا آشیاں کردے

رسول پاکؐ کے صدقہ میں ان کو اے مرے مولا

مبارک رہروانِ راہِ ختم المرسلاں کردے

اسی کااثرتھا کہ تینوں بھائی علم وعمل کے جس بلند درجہ کوپہنچے ،سبھی کومعلوم ہے، مولاناسید محمدواضح رشیدحسنی ندوی راہِ ختم المرسلین کاعکس جمیل تھے ،وہ علم وعمل اور فکرو نظر کانہایت حسین پیکر نظر آتے تھے، صاحب وجاہت لوگوں سے ملنے ملانے کا مزاج نہیں تھا،اس سے بہت بچتے تھے، مولانامرحوم نے اپنی وقیع تصنیفات وتالیفات،دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں شاگردوں کے ساتھ مولاناجعفرمسعودحسنی ندوی جیساعالم ،فاضل، عربی و اردو نوں زبانوں میں صاحب اسلوب مضمون نگارجانشین چھوڑا،اوردونوں پوتے مولوی سید خلیل حسنی ندوی اور مولوی سید امین حسنی ندوی بھی عالم و فاضل اور صاحب قلم ہیں، تیسرے پوتے سید عبدالحی حسنی ابھی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ہی کے درجات تخصص میں زیرتعلیم ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات کوبہت بلند فرمائے، موت برحق ہے اورآنی ہے لیکن ان کے انتقال سے اہل خاندان تواہل خاندان ہیں، ان کے رفقاء ومحبین اور تلامذہ پرجوکچھ گذری، بیان سے باہرہے، ندوہ کی پوری فضا سوگوار معلوم ہوتی ہے ۔

شمس الحق ندوی