مسلمان کی شان

دل کی دھڑکن کیا کہتی ہے !
فروری 13, 2020
اسلام : اللہ کی رضا جوئی کا نام
مارچ 15, 2020

مسلمان کی شان

مسلمان تو وہ ہے جن کو کسی انسان کو کھلا کر فاقہ کرنے میں وہ لطف ومزہ آتاہے،جس پر کھانوں کی ہزار لذتیں قربان،جن کا یقین ہے کہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی شرف اور عزت واحترام کی چیزنہیں،وہ انسانیت کی تعمیر کا خواب دیکھتے ہیں،اور اپنے اندر اس کا عزم وحوصلہ پیدا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں،جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کوئی پیدا کرنے والاہے،ہمیں اپنی اور دوسرے انسانوں کی زندگی کو اسی کی مرضی اور حکم کے سانچے میں ڈھالناہے،ایسا نہیں کہ دوسری تمام مخلوق کی طرح ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے؛بلکہ ہمیں اپنے مالک کے سامنے حاضری دینی ہے،اور اس مالک نے ہم کو جو عظیم صلاحیتیں عطاکی ہیں،ان کا حساب دیناہے کہ ہم نے ان صلاحیتوں کوصرف ایجادات،اور سامان عیش وعشرت کو بڑھانے میں لگائی،یا اس کے حکموں کی تابعداری کرنے اور دوسروں کو تابع بنانے کی فکر وکوشش کی،اسی میں راز پوشیدہ ہے انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا،اور اسی میں راز پوشیدہ ہے:’’اُوْلٰئِکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ‘‘اور’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ، ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہ‘‘(وہ لوگ ہیں ساری مخلوق سے بہتر،اللہ ان سے راضی اور وہ ان سے راضی،یہ ملتا ہے اس کو جوڈرا اپنے رب سے)۔
اس کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی اور تاریخ اسلامی کی بے شمار شخصیتوں میں وہ مثالیں ملتی ہیں جو مسلمان کے لیے روشنی کے مینار کا کام دیتی ہیں؛لیکن ’’وَجَعَلْنَا مَا عَلَی الْأرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا لِنَبْلُوَھُمْ أیُّھُمْ أحْسَنُ عَمَلاً ‘‘کے دھوکہ میں اکثر مسلمان اس فانی دنیا ہی کے پر فریب جال اور زیب وزینت کے اسباب حاصل کرنے میں اپنی صلاحیتیں لگاتے ہیں،جن کی ساری جدوجہد ،تگ ودو،کاوش وکوشش کا مدعااولاً بھی اور آخراًبھی یہی دنیا اور اس کی لذتیں رہتی ہیں۔
بینک کے بڑے بڑے کھاتے ،اونچے اونچے عہدے اور خطابات،نام ونمود،شہرت واعزاز،علمی ترقیاں،معاشی فلاح یابیاں ہی ہوتی ہیں،اور محض اپنے غلط خیال اور خواہش نفس کے موافق اپنی روش کو بہتر سمجھتے ہیں،افسوس آج ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جن کی صبح و شام،رات ودوپہر،سب اسی دنیا کے فریب میں پڑے ہوئے ہیں،اور زندگی رضائے مولیٰ سے بالکل منہ موڑے ہوئے گزررہی ہے۔
مسلمانوں کو تو کتاب ہدایت ملی ہے،جس سے انسانی آداب واخلاق نے تکمیل کا درجہ پایا،عدل وانصاف اور اخوت ومساوات کے نمونے سامنے آئے،دنیا کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آیا جس کو انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا،کاش کہ مسلمان اپنی زندگیوں کاا زسرنو جائزہ لیتے،اور اس کھوئی ہوئی دولت کو پھر سے حاصل کرتے جس سے پوری دنیا کے انسانوں کو روشنی ملتی،خلیفہ راشدحضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں:
’’علم دین بہترین میراث ہے،ادب وتربیت کا مشغلہ بہترین کام ہے،زہدو تقویٰ بہترین توشہ ہے،جو سفرآخرت میں کام آتا ہے، خلوص دل کے ساتھ اللہ کی بندگی میں متاع ِگراں مایہ ہے،عمل صالح ایمان کی منزل کی طرف بہترین رہنمائی کرنے والا ہے،اخلاق فاضلہ بہترین ساتھی ،اورتحمل وبردباری بہترین معاون ومددگار ہے،قناعت سے بڑھ کر کوئی تونگری نہیں ہے،اور توفیق الٰہی سے عمدہ کوئی یارو مونس نہیں،اہل بصیرت کے لیے موت سے زیادہ کوئی عبرتناک شے نہیں ہے،خبر مرگ قافلۂ عمر کے لیے بانگ رحیل ہے‘‘۔
شمس الحق ندوی