تری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے

دعوت اسلام و ایمان کی تئیں امت محمدی ﷺ کی ذمہ داری
دسمبر 19, 2018
ایمان و عزیمت کا حسین پیکر
جنوری 12, 2019

تری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے

ہم غورکرتے ہیں تویہ نا قابل انکار اورروز روشن کی طرح عیاں حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانی زندگی کے دوپہلو ہیں: ایک پہلو توپیدائشی اور فطری ہے جوہرانسان میںیکساںپایاجاتاہے اورازخود اس پہلو کواپنانے کاداعیہ پیداہوتاہے، کسی تحریک وترغیب اوردعوت وتشویق کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں پیش آتی، انسان اس کواز خود اپناتا اوراس کے تقاضے کوپوراکرتاہے، بالکل اسی طرح جس طرح پانی ڈھال کی طرف بہتاہے یاپودااوپر کی طرف بڑھتاہے، یہ پہلو ہے انسان کی طبعی ضروریات وبشری تقاضوںکا جیسے کھانے پینے اورزندگی گزارنے کے دوسرے اسباب ووسائل کے حصول کافکر مندہونا اوراس کے لیے بلا کسی دعوت وترغیب کے کوشش کرنا، زندگی کایہ پہلو مومن وکافر سب کے لیے یکساں ہے ، اس میںکفر وایمان کا کوئی فرق وامتیاز نہیں، سارے طبعی تقاضے مومن وکافر سب میںیکساں پائے جاتے ہیں، یہ وہ پہلو ہے کہ اس کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے ، لوگوں کو کمانے اورحصول رزق کے لیے دیگراسباب معاش کواپنانے کے لیے کوئی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں، اس کااحساس وجذبہ انسان میںپیدائشی پایا جاتاہے، ہرانسان از خود اس پرعمل کرتاہے۔

دوسراپہلو ایمان کاپہلو ہے، یہ خاص ہے مومن بندوں کے ساتھ، اس پہلوکاتقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق سے احکام لے اوراس پرعمل کرے، انسان حلال وحرام میںتمیز کرے، معاش کے لیے حصول کاطریقہ کیاہو؟ کن طریقوں سے جائز ودرست ہے؟ اورکن طریقوں کواپنانے سے اسلامی غیرت وحمیت کوٹھیس پہنچتی ہے؟ انسان کی زندگی کامقصد اصلی کیاہے؟ ایک انسان کادوسرے انسان پر کیاحق ہے؟ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیا برتائوکرے، لین دین، کاروبار، گھر اوربازار میں کس طرح رہے ، باپ ہے تواولاد کی تعلیم وتربیت کی اس پرکیا ذمہ داریاں ہیں؟ اولاد ہے تو ماںباپ کے اس پرکیاحقوق ہیں ؟ شوہر ہے توبیوی کے ساتھ کیاسلوک کرے، بیو ی ہے توشوہر کے حقوق کاکس طرح پاس ولحاظ کرے، حاکم ہے تو محکوم پر کیسی شفقت وعنایت کامعاملہ کرے ،محکوم ہے توآقا کے حکموں کی بجاآوری میں کیسا مستعد رہے؟ غرض یہ کہ پورے نظام معاشرت میںاس کا کیاکردارہو،زندگی کے ہرہرعمل میںاپنے خالق ومالک کی رضاجوئی وخوشنودی کاکیساخیال رکھے، انسانی حقوق کامعاملہ ہو توجواپنے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے بھی  ’’لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ مایحب لنفسہ‘‘دوسروں کے دکھ درد میں کام آئے، محتاجوں اورضرورت مندوں کی خبرگیری کرے، یہ وہ انسانی قدریں ہیں جن کی دعوت وتبلیغ کی ضرورت ہوتی ہے، اوراسی میںانسان کے اشرف المخلوقات ہونے کاراز پنہاں ہے، اس کی ذات سے اورقول وعمل سے کسی کوتکلیف نہ پہونچے، ’’المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ‘‘ انبیاء کرام اس دوسرے ہی پہلو کا شعور بیدارکرنے اورجگ ریت میںبدمست وکھوئے ہوئے انسانوں کوہوشیار کرنے کے لیے آتے ہیںکہ جب جب انسان زندگی کے پہلے رخ پرلگ کر ایمان کے پہلوسے غافل ہواہے، دنیا میںبڑا فساد وبگاڑ پیداہواہے، اوراس کی پاداش میں بڑی بڑی قومیں اور صاحب سطوت وجبروت بادشاہتیں حرف غلط کی طرح صفحۂ ہستی سے مٹادی گئیں، قرآن کریم نے ایسے بہت سے واقعات بیان کیے ہیں کہ سجاسجایا ملک چھوڑ کروہ آن کی آن میںغائب ہوگئے، کسی وصیت وہدایت کا بھی موقع نہ ملا، فرعون ونمرود کاواقعہ سب جانتے ہیں، قوم عاد وثمود جیسی زبردست قوموں کی بربادی کاحال کسے نہیں معلوم کہ منٹوں میںکھجور کے تنوں کی طرح ڈھیر تھے ،’’کَاَنَّھُمْ أعْجَازُ نَخْلٍ خاَوِیَۃٍ‘‘[حاقہ:۷] دوسرے پہلو کی طرف توجہ دینا اورانسانوں میںاس کاشعور پیداکرنا اب یہ امت مسلمہ کے ذمہ ہے کہ سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد یہی امت دعوت ہے، اگریہ امت اپنے دعوتی کام کوچھوڑ کر دوسری قوموں کے ساتھ مادیت کی ریس میں شامل ہوجاتی ہے تونہ صرف اس کااپناوجود و تشخص ختم ہوجائے گا بلکہ دنیا نہایت ہیبت ناک حالات سے دوچار ہوگی، فکروتشویش کی بات یہ نہیں کہ دنیا میںمادیت کاغلبہ بڑھ گیا ہے اوراس کے نتیجہ میں اخلاقی انارکی اور افراتفری کاعالم بپاہے۔

بلکہ فکروتشویش کی بات یہ ہے کہ جوامت اس عالم کی محاسب ونگراں تھی وہ بھی اپناکام چھوڑ کرمادیت کے سیلاب میںبہی چلی جارہی ہے، غزوۂ بدر کے موقع پرانتہائی اضطرار واضطراب کے عالم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ’’اللّٰھم ان تہلک ھذہ العصابۃ لن تعبد‘‘  (اے خدا!گر تونے ا س چھوٹی سی جماعت کوہلاک کردیا توکبھی تیری عبادت نہ ہوگی)اس بات کاصاف اعلان ہے کہ اس امت کا وجود قافلۂ انسانیت کی رہبری و رہنمائی کے لیے ہواہے، شور ہے کہ مسلمان سارے عالم میں مظلوم ومقہور ہیں، مسلمان قوم اس ظلم وقہر سے نہ مٹی ہے نہ مٹ سکتی ہے ، اس کی بقاء وفنا کا انحصار اس کے اپنے کیریکٹر اور اورتشخص وامتیاز پر ہے، اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس قوم کاسواد اعظم اپنی اصل ذمہ داری یعنی زندگی کے ایمانی پہلو کے تقاضوں کوچھوڑ کر دوسری قوموں کے ساتھ زندگی کے پہلے رخ پرچل پڑاہے، خصوصاً اس کے لیڈر اورسربراہ بری طرح اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور ہوش وخرد اس حدتک کھوچکے ہیں کہ کچھ سننے سنانے کے لیے تیار نہیں، وہ ہرسودا کرنے کے لیے تیار ہیں، ان کوعہدہ اورمنصب ملنا چاہیے۔

امت مسلمہ بہت زخم کھاچکی ہے، اب اس کوبیدار ہوناچاہیے اوراپنی صلاحیتوں کومقصد اصلی میںاستعمال کرناچاہیے، یہ قوم دشمنوں کے مارنے سے نہ مرے گی بلکہ اپنی ایمانی اوراخلاقی موت سے مرے گی، ہم کو اس کی فکر کرناچاہیے کہ مسلمانوںکواخلاقی اورایمانی موت سے بچائیں اوران کے اخلاق وکردار کامعیار اتنااونچا کردیں کہ نظرپڑتے ہی معلوم ہوجائے کہ یہ ٹکسال محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈھلے ہوئے سکے ہیں ،جن کاکوئی ثانی نہیں، وہی معراج انسانیت ہیں، وہی فلاح دارین کی ضمانت ہیں، کاش مسلمان اپنے اس مقام بلندکوسمجھتے، اوراقبالؔ نے اپنے چنداشعار میں ان کی جس حقیقت کوبیان کردیاہے اس کواپنی نگاہوں کے سامنے رکھتے اوراپنے معمار جہاںہونے کاثبوت دیتے، اقبال ؔکے ان اشعار کوپڑھئے اور اپنی قسمت پرناز کرتے ہوئے میدان عمل میںاترئیے اوراس رزق کولات مارئیے جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہے      ؎

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی

ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے

حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا

تری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے

جہانِ آب وگل سے عالم جاوید کی خاطر

نبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں توہے

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

شمس الحق ندوی