دل کی دھڑکن کیا کہتی ہے !

معروف فقیہ ومفسر قرآن مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کی رحلت
جنوری 27, 2020

دل کی دھڑکن کیا کہتی ہے !

کسی کہنے والے نے کتنی دل لگتی بات کہی ہے کہ انسان کے دل کی دھڑکن ہرآن اس کوآگاہ کررہی ہے کہ زندگی منٹ وسکنڈکی ہے جس کو کسی عربی شاعرنے اس طرح اداکیاہے کہ:
دقات قلب المرء قائلۃ لہ
ان الحـیـاۃ دقـائق وثـوانی
صادق المصدو ق حبیب خدا رحمت عالم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اس حقیقت کواس طرح بیان فرمایاکہ :نمازمیں ایک طرف کا سلام پھیر و تو دوسری طرف کایقین نہ رکھو۔
اس کی مثالیں بھی برابرسامنے آتی رہتی ہیں، ایک شخص کے یہاں عقیقہ ہے ،عزیزوں کی دعوت کررکھی ہے لیکن اس کے گھر پہنچتے ہیں تواس کاجنازہ رکھاہوتا ہے۔ دوسرے کے یہاں شادی ہے ،وہ اسی انتظام میں لگاہوا ہے، اگلے دن شادی ہے، شادی کاکچھ سامان لے کر آرہاتھاکہ راستہ ہی میں حالت بگڑی اورچندمنٹوں میں روح پرواز کرگئی، شادی میں شرکت کرنے والے غمی میں شریک ہورہے ہیں۔ ایک عالم دین جمعہ کاخطبہ دے رہے ہیں، پہلا خطبہ دے کر بیٹھے کہ اس کے بعددوسراخطبہ دیں اورروح پرواز کرگئی۔ حافظ صاحب تراویح پڑھارہے ہیں، سجدہ میں گئے اورروح پرواز کرگئی ۔ہمارے مشاہد ہ کی سیکڑوں مثالوں میں سے یہ چند مثالیں ہیں، قارئین کے سامنے بھی اس طرح کے بہت سے واقعات گذرچکے ہوں گے، جوآگاہ کرتے ہیں کہ زندگی کے جو لمحات بھی حاصل ہیں ان سے فائدہ اٹھالو!
وعظ وتقریر میں عام مسلمانوں کی اصلاح وتربیت اوران میں فکر آخرت پیداکرنے کے لیے اچانک پیش آنے والے ان واقعات کوبیان کرنا اور ان کو جھنجوڑنا یقینا مفید ہے ؛لیکن خودعلماء ومصلحین کواس حقیقت کوسامنے رکھتے ہوئے اپنی زبان وقلم کواستعمال کرنے اوراپنے فریضہ کواداکرنے کے لیے کس فکرواحتیاط کی ضرورت ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔مگریہ کتنی افسوسناک بات ہے کہ اس میں شرمناک حد تک کوتاہی سے کام لیاجاتاہے، اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگوں میں اپنی حیثیت کوبڑھانے کے لیے سب کچھ کہااورلکھاجاسکتا ہے لیکن اس کاخیال نہیں کہ عالم الغیب والسرائرکے سامنے پیشی کے وقت کیاحال ہوگا، وہاں وہ تاویلات نہیں کام دیں گی جن کے ذریعہ لوگوں کودھوکے میں رکھاگیاہے ۔
ایسے ہی بعض وقت ضداورغصہ میں آدمی ساری حدوں کوپارکرجاتا ہے ،حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی ؓ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ:’’ اللہ کے رسول ہم کوبہت مختصر وجامع نصیحت فرمادیجیے، آپؐ نے فرمایا:غصہ نہ کیاکرو‘‘۔غصہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اس سے دماغی توازن بگڑجاتا ہے، جب دماغی توازن صحیح نہ ہوتوآدمی کچھ بھی کرسکتا ہے ،ماں باپ پرہاتھ اٹھتا ہے ،اپنے عزیزوں و بزرگوں تک کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے لگتا ہے ،اس لیے قرآن کریم نے غصہ برداشت کرلینے والوں کی تعریف اس طرح کی ہے:’’وَالْکَا ظِمِیْنَ الْغَیْظ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ‘‘(اور جو غصہ کو روکتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں)۔
غصہ کااثر اورضد کاہوش وحواش پراتناغلبہ ہوجاتا ہے کہ سوچنے اورعقل سے کام لینے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، کسی کاسمجھانابھی اس کو پسند نہیں آتا؛بلکہ سمجھانے والے ہی سے لڑجاتا ہے ،ایسے لوگوں کومزاج یہ بن جاتا ہے کہ اہل اللہ اوراکابرتک کی شان میں طعن تشنیع کرنے لگتے ہیں حالانکہ یہ اتنی خطرناک بات ہے کہ اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے:’’ من عادی لی ولیاًفقدآذنتہ بالحرب‘‘(جومیرے کسی ولی سے دشمنی کرتاہے ،میں اس سے اعلان جنگ کردیتاہوں) اللہ تعالیٰ کوئی فوج نہیں اتارتا بلکہ ایسے شخص پرایسی بے توفیقی مسلط ہوجاتی ہے کہ بے قیاس وگمان غلط راستہ پرچل پڑتا ہے اورچلتاہی جاتا ہے۔
تاریخ میں اس کے بڑے افسوسناک و عبرتناک واقعات ملتے ہیں، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اہل اللہ اورخاصانِ خداکی شان میں بے ادبی اورگستاخی سے بچائے ۔یہاں میں قریبی عہد کی صرف مثالیں بیان کرتاہوں :حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں کہ: ایک طالب علم نے مولانا سیدسلیمان ندویؒ کی شان میں گستاخی کی، نتیجہ یہ ہواکہ وہ پاگل ہوگیا ،ایسا کہ اس کے باپ سیدصاحب کے پاس اس حال میں لائے کہ ہاتھ بندھے ہوئے تھے، سید صاحب نماز کے لیے مسجد میں داخل ہورہے تھے، حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ نے عرض کیا کہ آپ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے اس کایہ حال ہوا،آپ معاف فرمادیجیے، جب سیدصاحب نماز پڑھ کے نکلے توفرمایا:مولوی ابوالحسن! ہم نے آپ کاکہاکردیا(یعنی اس کے لیے دعاکردی)فوراًوہ اچھاہوگیا اوراس کے جنون کی حالت ختم ہوگئی۔
حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی ؒ کے ساتھ ایک شخص نے بڑی بے حیائی کے انداز میں گستاخی کی، جس کانتیجہ یہ ہواکہ بہت شرمناک انداز میں گھرکی عورتوں اورخود اس کی پٹائی ہوئی، اوراس کی زبان سے یہ نکلا کہ یہ حضرت کی شان میں گستاخی کی سزاہے،بقول شاعر:
عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
بات شروع ہوئی دل کی دھڑکن کی آگاہی سے؛ لیکن غفلت کاماراانسان کس دھوکے میں پڑا رہتاہے کہ حاضرکے سامنے غائب کاخیال نہیں رہتا اور شیطان اس کے گلے میں ایک نہ دکھائی دینے والا پھندالگاکرکن کن فتنوں میں ڈالے رکھتا ہے۔
دل کی دھڑکن کے ذکرکایہ مطلب بھی نہیں کہ آدمی بس موت کے مراقبہ میں گم رہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے زندگی گذارنے کے جواحکامات ،اخلاقیات سے لے کرمعاملات، باہمی تعلقات، لین دین ،کاروبار، حلال طریقہ پرروزی حاصل کرنے، باہمی میل جول اور اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی کے جوطریقے بتائے ہیں، اور وقت کی نبض شناسی اور اس کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جو ایمانی فراست سے نوازا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہاہے، ان کوانجام دیں اورجن غلط کاموں اورفحش باتوں سے روکاگیاہے ،ان کے قریب نہ جائیں تاکہ جب ملک الموت آئیں توہم ’’یَااَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْ اِلَی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّہً‘‘ کی بشارت کے ساتھ بارگاہ ِخداوندوی میں حاضر ہوں۔
٭٭٭٭٭
شمس الحق ندوی