کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟

کتنا خوفناک ہے یہ عذاب
فروری 28, 2018
عملی قدم اٹھانے سے پہلے اپنا جائزہ
مارچ 26, 2018

کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟

مذہب اوردین کانام لے کرعوام کوجوش دلانااوراس سے اپناکام نکالنا غلط رہنمائی ہے جس سے مسلمانوں کوسخت نقصان پہنچے گا،ضرورت اس کی ہے کہ مسلمانوں کوصبر وضبط ،استقامت وتحمل ،برداشت وایثار،باہمی ہمدردی ،عملی وحدت اوراعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جائے ،صرف زبانی جوش وخروش، گرماگرم محفلی اور اخباری بحث اورباہم دست وگربیاں ہوناقوم کی طاقت نہیں ،اس وقت مسلمانوں کے اپنے اندرونی جوحالات ہیں ،ذیل کی روایت میں ان سے کتنا ہوشیار کیا گیاہے:حضرت ابوامیہ شعبانی سے روایت ہے کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی سے پوچھا کہ تم اس آیت ’’علیکم انفسکم‘‘ کا کیا مطلب سمجھتے ہو؟ انھوں نے جواب میں فرمایا: تم نے واقف وباخبر سے اس آیت کامطلب معلوم کیا،میں نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا توآپ نے فرمایا:’’آیت کامطلب یہ ہے کہ نیکیوں کواپناؤ،اوربرائی سے بچو،جب دیکھوکہ لالچ کادور دورہ ہے اورلوگ خواہشات نفس کے غلام بن چکے ہیں ۔
دنیاکو(دین پر)ترجیح واولیت حاصل ہے، ہرشخص اپنے خیال ورائے کوبہتر سمجھتاہے ،توتم اپنے نفس کی فکرکروعوام سے کنارہ کش رہو،تمہیں بڑے ناگفتہ بہ حالات سے واسطہ پڑنے والاہے جن میں دین پرقائم رہنااتناہی مشکل ہوگا،جتنا ہاتھوں میں آگ کاانگارہ لینا، اس نازک دورمیں دین پرعمل کرنے والے کو اس جیسے پچاس عمل کرنے والوں کاثواب ملے گا‘‘۔[ابوداود،ترمذی]
ابن ماجہ کی طویل روایت میں ذکرہے کہ جب ( مسلمانوں )کے رہنماکتاب اللہ (شریعت )کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے اوراللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام (شریعت کے مسائل )میں من مانی کریں گے تواللہ تعالیٰ ان میں جھگڑاو تفرقہ پیداکردے گا۔
اس وقت مسلمانوں کے خواص بہت سے علماء اورخالص دینی کام کرنے والوں پرنفسانیت اورخودبینی کاجوغلبہ ہے (الاماشاء اللہ )ا س کے ذکرکی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے امت کے حال زار پررحم فرمائے ،اورجگ ہنسائی کے اس غبارکودورفرمائے ،ہم کچھ لکھیں توکیالکھیں ،اس وقت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کاایک واقعہ نقل کرنے پراکتفاکرتے ہیں، ممکن ہے دل پرچوٹ لگے اورفائدہ ہو:امام حسن بصریؒ ایک صالح نوجوان کوساتھ لے کربصرہ کے گلی کوچوں میں گھوم رہے تھے، ایک ماہرحکیم کے پاس سے گذرہواجن کے پاس مریضوں کی بھیڑجمع تھی ،عابد وصالح نوجوان ان حکیم کے پاس گیااورآگے بڑھ کرطبیب سے دریافت کیاکہ آپ کے پاس کوئی ایسی بھی دواہے جس سے دل کے تمام روگ دورہوجائیں ،حکیم حاذق نے جواب دیا:ہاں۔(پھران تعلیمات نبویؐ کوجن کااصلاح اورذہنی وفکری تربیت سے تعلق ہے ،ان کاخلاصہ طبی نسخہ نویسی کے اندازمیں اس طرح بیان کیا)’’میں تمہیں د س چیزیں بتاتاہوں تم اگرکرو گے توتم کواپنامطلو بہ فائدہ حاصل ہوجائے گا،تم غیرت وفقرکے درخت کی جڑیں لو،انھیں عجزوانکسار کی بوٹیوں کے ساتھ ملالو،اس میں انابت وتوبہ کے ہلڈے شامل کرلو،اس نسخہ کوتسلیم ورضاکے کھرل میں ڈال کرقناعت وسیرچشمی کے ہاون دستے سے پیس لو،اچھی طرح پس جانے کے بعداس کو تقویٰ اورپرہیزگاری کی دیگ پرچڑھادو، اوپرسے ذراساشرم وحیاکاپانی انڈیل دو،پھر عشق الٰہی کی آنچ میں اسے ڈال کرامیدوبیم کے پنکھے سے ذراسی ہوا دے لو،اس کے بعداللہ کی حمدوثناکاچمچہ لے کردواپی لو،اگرتم اس مجرب دواکوبرابر استعمال کرتے رہوگے،تواللہ تعالیٰ تمہیں ضروردنیاوآخرت کی تمام بیماریوں اور ہرقسم کے امراض جسمانی و روحانی سے شفاعطافرمائے گااورتم سعادت ابدی اورنجات سرمدی سے ہم کنارہوگے‘‘۔
صدقِ احساس کی دولت مرے مولیٰ دیدے
غمِ امروز بھلادے غمِ فردا دیدے

شمس الحق ندوی