مدارس عربیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز

اعتکاف ، شب قدر اور عید الفطر
جون 25, 2017
شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری کا حادثۂ وفات
جولائی 25, 2017

مدارس عربیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز

مدارس عربیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز
شمس الحق ندوی
ماہِ شوال مدارس دینیہ کے لیے نئے سال کا آغاز ہوتاہے،دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اسی مہینہ میں داخلہ کے لیے ان مدرسوں میں آتے ہیں،والدین بھی جن کو دین کا شوق اور کچھ شعور ہوتاہے،اپنے بچوں کو ان مدارس میں بھیجتے ہیں کہ دین کی تعلیم اور اس پر عمل کا سبق یہیں ملتاہے۔
اس لیے اہل مدارس کی بڑی نازک ذمہ داری بنتی ہے کہ آنے والے ان طلبہ کی تعلیم وتربیت کی پوری فکر کریں اور وہ اندازوطریقہ اپنائیں جس سے ان کی صحیح تعلیم وتربیت ہوسکے،اہل مدارس کے لیے یہ شرف وخوش نصیبی کی بات ہے کہ دین کے حصول کا مرکز وہی سمجھے جاتے ہیں،لہٰذا اس شرف کا حق اداکرنے کے لیے اپنی پوری دینی،علمی اور تربیتی صلاحیتوں سے کام لینا چاہیے کہ انسانوں کو ہدایت کی راہ دکھانے کا ان مدارس کے اور ان کے کارکنان کے علاوہ کوئی اور مرکز نہیں پایاجاتا۔
اس میں شک نہیں کہ یہ علم کے عروج وترقی کا زمانہ ہے،ہر قسم کے علم وایجادات روز بروز سامنے آرہے ہیں،جن پر عقل حیران رہ جاتی ہے،ان علوم و ایجادات کے بڑے بڑے ادارے قائم ہیں،لیکن جہاں انسانی اخلاق ومحبت اور اس کائنات کے بنانے اور سجانے والے مالک کے جاننے اور پہچاننے کی تعلیم دی جاتی ہو،انسان کو اس کے مالک وخالق سے جوڑنے کا سبق سکھایا جاتاہو،جو انسان کے پیدا کرنے کا اصل مقصد ہے اور ساری مخلوقات پر اس کو فضیلت دی گئی ہے:’’ان الدنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للآخرۃ‘‘یعنی دنیا کی ساری چیز ،سارے اسباب ووسائل انسان کے لیے پیدا کیے گئے ہیں،اور انسان آخرت کے لیے پیدا کیاگیاہے،دنیاکے غیر دینی علوم وفنون کی ترقی نے انسان کو اس کی پیدائش کے اصل مقصد سے غافلاور خدافراموش بنادیاہے،اور وہ من مانی زندگی گذاررہاہے،جس کے نتیجہ میں ظلم وفساد کا خوفناک اندھیرا دن بدن بڑھتا جارہاہے۔
انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے روشن مینار یہ مدارس ہی ہیں،جو کارِنبوت انجام دینے کے ذمہ دار ہیں،لہٰذا اہل مدارس پر ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘(علماء نائبین رسول ہیں)کی نازک ذمہ داری ڈالی گئی ہے،ذمہ جتنی نازک ہوتی ہے،اتنا ہی اس کے لیے فکروہمت اور حکمت وسوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذا طلبہ کی تعلیم وتربیت کے لیے پوری کوشش کرنا،یہ اہل مدارس کی ذمہ داری ہے۔
مدارس میں آنے والے طلبہ کا الگ الگ ماحول اور صلاحیتیں ہوتی ہیں،طلبہ کی اچھی خاصی تعداد خوش حال گھرانوں کی ہوتی ہے، ان کا مزاج اور ان کی سوچ الگ ہوتی ہے،ان کی تربیت کے لیے ان کے ماحول کو ذہن میںرکھنا ضروری ہے،ان کی نفسیات الگ ہوتی ہیں،دیہاتوں سے آنے والے اور متوسط گھرانوں سے آنے والے طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے،ان کی ثقافت اور سوچ الگ ہوتی ہے،ان کی تربیت اور ذہن سازی کا الگ انداز اپنانا پڑے گا۔
بڑے اور مرکزی مدارس میں تویہ ممکن نہیں،لیکن چھوٹے اور ملحقہ مدارس میں جہاں طلبہ کی تعداد تھوڑی ہوتی ہے،اس کا لحاظ طلبہ کی تربیت میں معاون ہوگا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام ؓ کی تربیت میں ان کی نفسیات اور ماحول کا پورا لحاظ فرمایاہے،حدیث کی کتابوںمیں اس کی بڑی مثالیں ملتی ہیں،امکان بھر طلبہ کے سرپرستوں سے رابطہ رکھنا بھی طلبہ کی تربیت میں تو معاون ہوگاہی ،خود ان سرپرستوں کو بھی فائدہ پہنچے گا،اس لیے کہ ان میں سے اکثر دین کی ابتدائی اور بنیادی باتوں سے ناواقفط ہوتے ہیں،اس انداز کو اپنانے سے اصلاح معاشرہ کا بھی اچھا خاصا کام ہوسکتاہے،جو بہر حال علماء ہی کی ذمہ داری ہے۔
اہل مدارس یہ نہ خیال کریں کہ غریب گھروں سے آنے والے معمولی لباس اور معمولی کھانا کھانے اور فرش پر بیٹھ کر پڑھنے والے یہ طلبہ جن کے دل بجھے ہوئے،امنگیں دبی ہوئی ہیں،دنیا کے بگڑے ہوئے طوفانی ماحول میں انسانیت ومحبت کا کیا کام انجام دے سکیں گے،یہ کسی مکتب کے استاد یا مسجد کی امامت کاکام ہی سنبھالیں گے،اول تو خود مکتب کی تعلیم یامسجد کی امامت کوئی معمولی یاحقیر کام نہیں ہے،جس کو دین سے دور اور دنیا کمانے والے لوگوں نے سمجھ رکھاہے،یہ مکتب نہ ہوںتو بچوں کو کلمہ سکھانے ،ان کے دلوں کی سادہ تختی میں توحید کا عقیدہ بٹھانے کاکام کیسے انجام پاسکے گا،اور یہ ائمہ نہ ہوں تو مساجد کیسے آباد ہوں گی،اور روز مرہ کے ضروری مسائل مقتدیوں کو کون بتائے گا؟
اسی کے ساتھ اس سے بھی مایوس نہ ہونا چاہیے کہ انھیں غریب گھرانوں کے بچوں میں وہ لعل وگہر پوشیدہ ہیں جن سے قوموں اور ملکوں میں انقلاب لایا جاسکتاہے،ہماری دینی ودعوتی تاریخ میں اس کی بڑی سبق آموز مثالیں موجود ہیں،ان کے نام گنائے جاسکتے ہیں،لیکن ہم نام اس نہیں لیے کہ کہیں کسی اہم شخصیت کا نام چھوٹ جائے تو کچھ لوگوں کواس کا احساس ہوسکتا،اور اس کو کوتاہ نظری پر محمول کیا جاتاہے،ہماری دعوتی تاریخ کی یہ وہ حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
حالات چونکہ غیر معمولی انتشار وخلفشار اور ذہنی الجھنیں پیدا کرنے والے ہیں،جن سے طلبہ کی زندگی بہت زیادہ متاثر ہورہی ہے،اس لیے اس پہلوکو بھی ذہن میں رکھ کر بڑی حکمت وسوجھ بوجھ سے طلبہ کی تربیت کاکام انجام دینا ہوگا، وہ والدین کتنے خوش نصیب ہیں جو اپنے نور نظر کو اس آرزو اور تمنا کے ساتھ بھیجیں کہ ان کا جگر گوشہ انسانیت کی رہبری کاکام انجام دے،اور وہ اس مقام پر پہنچے کہ کہنے والے کو کہنا پڑے ؎
سرسبز، سبزہ ہو جو ترا پائمال ہو
ٹہرے تو جس شجر کے تلے وہ نہال ہو
ہماری دعاہے کہ یہ نیا سال ہمارے تمام مدارس عربیہ کے لیے نہایت مبارک ثابت ہو،طلبہ کو صحیح اسلامی ڈھانچہ میں ڈھالاجاسکے،ان کے فکروذہن کو اتنا بلند کیاجاسکے کہ وہ ہر طرح کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی سے بلند ہوکر پوری انسانیت کی فلاح ونجات کے فکر مند ہوں،ان کے سینوں میں پوری امت کی فکر کا دردوسوز پایاجاتاہو،وہ تیار توہوں مدرسہ کے سادہ ماحول میں،مگر نظر پورے عالم کے حالات اور تقاضوں پر ہو،وہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور جزئی ومعمولی اختلافات سے بلند ہوکر عالمی سطح سے مسائل پر غور کرنے والے ہوں۔
امت مسلمہ کا اس وقت ایک بڑا سانحہ یہ ہے کہ دین وملت کے لیے طوفانی خطرات وسازشوں کے خطرناک حالات میں بھی وہ جزئی اور فروعی اختلافات کی بحثوں میں اپنی توانائی صرف کررہی ہے۔
٭٭٭٭٭