محرم الحرام سے نئی ہجری سال کا آغاز

حج اور عفووکرم کی دولت سے مالامال حجاج
اگست 27, 2018
انسانیت کے کام آنے کی ضرورت
اکتوبر 29, 2018

محرم الحرام سے نئی ہجری سال کا آغاز

شمس الحق ندوی

ایک حدیث شریف میں آتاہے کہ علامات قیامت میں سے یہ بات بھی ہے کہ وقت تیزی سے گذرتاجائے گا۔اب ہم گذرے ہوئے سال کے متعلق سوچیں توایسامعلوم ہوگاکہ خواب کی طرح سے سال آیااورگذرگیاپھراپنے اعمال کا جائزہ لیں تومعلوم ہوگاکہ پوراسال مال ودولت اورناموری ہی کی فکر میں گذرگیااورآخرت سے اس طرح غافل رہے جیسے وہ ایک خیالی بات ہو۔

سن ہجری کی ابتداہی اس سے ہوئی ہے کہ داعیِ اسلام رحمت عالم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کومکہ چھوڑنے پرمجبور کردیاگیا صرف اس لیے کہ وہ مالک و خالق کائنات کی اطاعت وعبادت کی طرف بلاتے ہیں ،اس کے علاوہ کی عبادت سے روکتے ہیں،اب جب کہ نیاہجری سال شروع ہونے جارہاہے توہم کو بھی اپنی زندگی کونئے حوصلوں ،نئی امنگوں اورنئے ولولوں کے ساتھ شروع کرنے کاعزم کرناچاہیے ۔ہجرت مدینہ امت مسلمہ کے لیے مستقل ایک پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ دین وایمان ایک مسلمان کی وہ پونجی ہے جس سے وہ کسی قیمت پردست بردار نہیں ہوسکتا، وہ موت کوگلے لگا لے گا لیکن دین وایمان کے انمول ہارکواپنے گلے سے نہیں اتارے گا جس کامشاہدہ ہم اس وقت بھی کررہے ہیں کہ مسلمانوں کی ا یک بڑی تعداد مختلف ملکوں میں قیدوبندکی زندگی گذاررہی ہے لیکن اپنی دینی غیرت وحمیت پرادنیٰ دھبہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ،سوائے ان قسمت کے ماروں کے جومغرب کی دجالی تہذیب کے دھوکہ میں آکر دین پرسے اپنا اعتمادکھو بیٹھے ہیں اورحب دنیا وحب جاہ ومال کی ریس میں دوسری قوموں کی راہ پرچل پڑے ہیں۔

ایک مسلمان کی آنکھوں سے یہ حقیقت اوجھل نہ ہوناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کوقیامت تک کے لیے مہلت دی ہے کہ وہ بنی آدم کو،ان آدم کی اولاد کو جن کوسجد ہ نہ کر نے کہ وجہ سے راندئہ درگاہ ہواتھا،گمراہ کرنے اوراپنے ساتھ جہنم لے جانے کی فکرمیں لگارہے اوراپنے پرفریب وپرکشش جال میں پھنسا کر اپنے ساتھ ان کوجہنم میں لے جائے ۔سورہ یٰسین میں اللہ تعالیٰ نے کتنی وضاحت کے ساتھ فرمایاہے: ’’اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یَابَنِیْ آدَمَ اَلاَّتَعْبُدُوْا الشَّیْطٰنَ اِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ وَاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلاًّکَثِیْراً اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ‘‘۔[۵۹-  ۶۱](اے آدم کی اولاد! ہم نے تم سے کہہ نہیں دیاتھاکہ شیطان کونہ پوجنا،وہ تمہاراکھلاہوادشمن ہے، اوریہ کہ میری ہی عبادت کرنا،یہی سیدھا راستہ ہے اوراس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیاتھاتوکیاتم سمجھتے نہیں تھے) ۔

لیکن ہماراحال یہ ہے کہ ان حقائق پرغورکرنے کے بجائے ہم یورپ وامریکہ کی مادیت پرستانہ تہذیب سے جس کوانھوں نے بہترین اسلحہ سے مسلح کررکھا ہے اوراس کی ہرچیزاتنی بھانے والی ہے کہ ہم ان حقائق پرغورکرنے اوران پرعمل کرنے  کے بجائے جن کوقرآن کریم نے بیان کیاہے اورمکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تشریح کی ہے، اس کی چمک دمک سے اس طرح دھوکہ کھاجائیں جس طرح لوگ دجال کی جنت کے دھوکہ میں آجائیں گے جودیکھنے میں توجنت نظرآئے گی لیکن حقیقتاً وہ جہنم ہوگی اورجودیکھنے میں جہنم نظر آ رہی ہوگی وہ جنت ہوگی۔

مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجودہ مادیت پرستانہ تہذیب کوجنت نشان سمجھتی ہے اوراس کی طرف اس طرح بڑھتی ہے کہ بعض وقت دینی اقدارکامذاق اڑاتی ہے لیکن جب اس کے تاجرانہ اخلاق اورخودغرضانہ میل جول ،بے پردگی اورلڑکی لڑکوں، مردوعورت کے باہم اختلاط کے شرم سے سرجھکادینے والے واقعات پیش آتے ہیں اوردین سے دوراولاد جب ماں باپ کے حقوق اداکرنے کے بجائے ان سے بغاوت ہی نہیں بلکہ بسا اوقات اس طرح ان کادل دکھاتی ہے کہ رونے کوآنسونہیں ملتے ،زبان سے بے ساختہ نکل جاتاہے کہ ہم نے ان کودین اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی فکرکی ہوتی تویہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔

اس طرح کے لوگ اکثریہ کہہ کردین سے دوری اختیارکرتے ہیں کہ اسلام موجودہ حالات کاساتھ نہیں دے سکتا،حالانکہ اسلام جس طرح کسی بھی دورمیں اورکسی بھی ماحول کے درمیان رہنمائی سے قاصر نہیں رہا ،آج بھی قاصرنہیں ہے، حالات چاہے جتنے بدترہوجائیں ہماری رہنمائی کے لیے قرآن وحدیث کی تعلیمات کافی رہیں گی، ہجرت مدینہ نے قیامت تک آنے والی مسلم نسلوں کویہ پیغام دیاہے کہ دنیا میں کسی بھی طاقت واکثریت کے سامنے وہ سرنہ جھکا ئیں اور سراٹھا کرفخرکے ساتھ وہ کہیں کہ ہمارے مخصوص عقائدکے ساتھ ساتھ ہماراایک مخصوص کلچر ایک مخصوص تمدن بھی ہے جس سے ہم کسی قیمت پردست بردارنہیں ہوسکتے، ہم اپنی خاص دینی تہذیب وثقافت کونہ کسی کی مروت میں چھوڑسکتے ہیں اورنہ ہی کسی کے دباؤمیں آکربقول ایک حکیم کے :’’دنیا بہترین کتاب اور زمانہ بہترین معلم ہے‘‘۔

قرآن کریم نے نافرمان قوموں کی تباہی اور انبیاء کرام کے ابتلا وآزمائش کے واقعات اسی لیے بیان کیے ہیں کہ ان سے سبق لیاجائے لیکن افسوس کہ ہم اپنی غفلت شعاری کے سبب ان واقعات کوبھی تفریح کے طورپرپڑھ کرگذرجاتے ہیں ، ان سے کوئی سبق نہیں لیتے ۔

ایک بڑادھوکااس سے بھی ہوتاہے کہ لاکھوں کی تعدادمیں لوگ مرتے رہتے ہیں، ان میں وہ ظالم اورآدم خوراورشرعی احکامات سے منہ موڑنے والے بھی کچھ کم نہیں ہوتے جوعبرتناک انجام کو پہنچتے ہیں لیکن دنیاکی چہل پہل میں چونکہ کوئی کمی نہیں ہوتی، اس لیے آنکھوں سے غفلت کا پردہ نہیں اٹھتا کہ   ع

ہزاروں اٹھ گئے رونق وہی باقی ہے محفل کی

٭٭٭٭٭