مایوسی نہیں ، اپنے مقام کی شناخت اور خدا کی ذات پر اعتماد

حج وقربانی کے بعد فکر و تقویٰ کی ضرورت
ستمبر 18, 2017
ایمان کا تقاضا
اکتوبر 7, 2017

مایوسی نہیں ، اپنے مقام کی شناخت اور خدا کی ذات پر اعتماد

مایوسی نہیں ، اپنے مقام کی شناخت اور خدا کی ذات پر اعتماد

شمس الحق ندوی

کہا جارہاہے کہ اسلام پر بڑا نازک وقت آیاہے،مسلمانوں پر بڑی پریشانی کا دور ہے،اسلام پر اس سے زیادہ،اس سے مایوس کن وقت کیا ہو سکتاہے کہ غزوۂ احد میں ستر جانباز صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوچکے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیاگیاہے،خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے ہیں، چہرۂ مبارک پر گہرے زخم ہیں،انہی روح فرسا حالات میں کفار کے بڑے قائد ابوسفیان اور خالد بن ولید مزید دھمکی دیتے ہیں کہ ابھی کیاہے،ایک اور فوج آرہی ہے جو تم کو ختم ہی کرکے رہے گی،لیکن ان نازک حالات نے گھبراہٹ ومایوسی کے بجائے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان ویقین کو اور بڑھا دیاہے،جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیاہے:’’اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسَ، اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَاناً وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘(وہ بندے جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمنوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑی تعداد اکٹھا کی ہے،تمہیں ان سے ڈرنا چاہیے ،تو اس سے ان کا ایمان اور بڑھ گیا،اور انہوں نے کہا کہ ہمارا اللہ ہمارے لیے کافی ہے،اور وہ بہترین کارپردازہے)۔
اس وقت مسلمانوں کی تعداد ہی کتنی تھی،ان تھوڑے سے مسلمانوں میں سے ستر کی شہادت دل دہلا دینے والی بات تھی،لیکن خدا کی نصرت ومدد پر یقین نے خوف وگھبراہٹ سے بچایا،اور وہ پہاڑ کی طرح جمے رہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پورے عالم میںمسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے،جب کہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب سے زائد بتائی جاتی ہے،اس پوری آبادی میں مسلمانوں کی تعداد سواارب بنتی ہے،یعنی مسلمان کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں،اور یہ تعداد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان سارے طوفانوں کے بعد ہے جو ان کے خلاف اٹھائے جارہے ہیں،پھر مسلمان کیوں مایوسی کا شکار ہوں،جب کہ مسلمان کو خوشخبری دی گئی ہے کہ ادھر اس کو شہید کیاگیا اور وہ جنت میں پہونچ گیا،جیسا کہ سورۂ یٰسین میں بندۂ مومن کا قول ذکر کیاگیا ہے کہ جب اس نے اہل بستی کو سمجھانے بجھانے کے بعد کہا کہ سنو! میں تو تمہارے خدا پر ایمان لے آیا ،اس کا یہ کہنا تھا کہ فوراً اس کو قتل کردیا گیا،اور وہ سیدھے جنت ہی پہونچا،اس کی خطائیں معاف کی گئیں،اور اعزازواکرام حاصل ہوا،اور اس نے بڑی حسرت سے کہا ، کاش!ہماری قوم کو معلوم ہوتا کہ ہمارے مالک نے ہم کو بخش دیا:’’قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ، قَالَ یَالَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ‘‘[سورۂ یٰسین:۲۶،۲۷](حکم ہوا چلاجا جنت میں،اس نے کہا کسی طرح میری قوم کو معلوم ہوتا کہ بخشا مجھ کو میرے رب نے ،اورداخل کیا مجھ کو عزت والوں میں)۔
سورۂ بروج میں اصحاب اخدود کی خدا سے بغاوت وسرکشی اور مومنین کی استقامت وشہادت رہتی دنیا تک کے لیے مسلمانوں کو کیا پیغام دیتے ہیں،خدا کے ان باغیوں نے خندق کھدواکراس میں آگ جلوائی اور مسلمانوں کو اس میں جھونک کر بادشاہ ،وزراء،حکام ،ان مومنین کے جلنے اور تڑپنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں،ایک مومنہ کی گود میںبچہ ہے،اس بچہ کی وجہ سے وہ آگ میں کودنے سے ہچکچاتی ہے،دودھ پیتا بچہ بول اٹھتاہے،والدہ!تم آگ میں کود جاؤ۔
کتنی حلیم ہے وہ ذات جو قہار،جبار ،اور عزیز ہونے کے باوجود ان منکرین کو ایک مدت تک کی چھوٹ دیتی ہے،کوئی صحیح روایت تو نہیں لیکن شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آگ بڑھی اور بادشاہ،حکام ،وزراء،سب کو جلاکر رکھدیا،ایک طویل حدیث میں یہ پورا واقعہ موجود ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔
اس وقت عالمی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہورہاہے،نہ خدا اس سے بے خبرہے،اور نہ بے بس ہے،بلکہ ڈھیل دے رہاہے،اس کی پکڑ زبردست ہے:’’إنَّ أخْذَہُ ألِیْمٌ شَدِیْدٌ‘‘(اس کی پکڑ دردناک اور سخت ہے)۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرعون وہامان ،نمرود وقارون کے ذکر اور ان کی ہلاکت وبربادی کا ذکرمحض معلومات کے لیے نہیں کیاہے،بلکہ ادھر بھی اشارہ ہے کہ ایسے سرکشوں ،ہمارے باغیوں ،اور طاغیوں کی آمد جاری رہے گی،ہم مہلت وڈھیل کی مدت گذرنے کے بعد ان کے ساتھ بھی وہی کریں گے،یہ ہم سے بھاگ نہیں سکتے،چنانچہ اس کے نمونے ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں،زیادہ نہیں صرف تین دہائیوں کے ان سرکشوں کے انجام پر غور کرلیا جائے، تو خدا کی طرف سے چھوٹ اور پھر عبرتناک انجام کی تصویر سامنے آجائے گی۔
اس لیے بندۂ مومن کو مایوسی کا شکارنہیں ہونا چاہیے(کہ مایوسی کفرہے)،خدا کی رحمت سے ناامید تو منکرین خدا اور گمراہ لوگ ہوتے ہیں:’’وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہِ اِلا َّ الضَّالُّوْنَ‘‘۔[سورۂ حجر:۵۱]
اللہ تعالیٰ نے اسی لیے پہلے بتادیا ہے کہ مومنو! تم اپنا کردار اداکرو،تم کو جن پریشانیوں سے گذرناہے،اور جو کچھ اس عالم فانی میں پیش آنا ہے،وہ ہم نے پہلے سے طے کردیاہے،تاکہ جو رنج وغم خود تم کو پیش آئے اس پر، اور دنیامیں جو تغیرات پیدا ہوں ،ان پر رنجیدہ نہ ہو،ہم تم کو آرام وراحت دیں تو اس پر خوش ہو کر ہم سے بغاوت نہ کرو۔
’’وَمَا أصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فِیْ الْاَرْضِ ، وَلاَ فِیْ أنْفُسِکُمْ إلاَّ فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ أنْ نَبْرَأھَا،إنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ، لِکَیْ لاَ تَاْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَتَفْرَحُوْا بِمَا آتَاکُمْ ‘‘۔ [حدید:۲۲]
یہ حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لیے بھی پیش آتے ہیںکہ مومنین میں رجوع وانابت کی کیفیت پیدا ہو،لیکن ہماری غفلت کا یہ عالم ہے کہ ان حالات میں بھی بے راہ روی اور دین سے دوری کے شکار ہیں،اور دنیا کی دوسری قوموں کی طرح ہم دنیا ہی کے پیچھے دوڑرہے ہیں،اور ان ساری برائیوں میں مبتلا ہیں جن پر دوسروں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہیں،پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آئے گی؟!
٭٭٭٭٭