ماہِ شعبان کی مبارک گھڑیاں

انسانیت دوست انسانوں کی ضرورت
اپریل 10, 2017
رمضان المبارک ۔رحمتِ خداوندی کاموسم بہار
جون 3, 2017

ماہِ شعبان کی مبارک گھڑیاں

شمس الحق ندوی
’تعمیر حیات‘ کایہ شمارہ جب ہمارے قائین کرام کے ہاتھوں میں پہنچے گاتوشعبان المعظم کامبارک مہینہ شروع ہونے کے قریب ہوگا جوبڑی خیروبرکت کا مہینہ ہے ،ہم مسلمانوں کویہ دیکھنااورجانناضروری ہے کہ اللہ کے نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ماہِ مبارک میں کیامعمولات ہوتے تھے ،وہ اس کی خیروبرکت سے فائدہ اٹھانے کاکتنااہتمام فرماتے تھے، تاکہ ہم بھی اس کی خیرو برکت سے فائد اٹھاکرآخرت کی دائمی زندگی کو کامیاب بناسکیں اوراس وقت جب نفسی نفسی کاعالم ہوگاایساکہ اس کے غم وخوف سے بچہ بوڑھاہوجائے اورحمل والیوں کے حمل خوف وگھبراہٹ میں گرجائیں، دودھ پلاتی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کوبھول جائے ،اس کاہوش نہ رہے ،لوگ حواس باختہ اس طرح گھبرائے ہوئے ہوں گے جیسے وہ نشہ کی حالت میں ہوں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے،اللہ تعالیٰ کاعذاب اتناسخت ہوگاکہ ہوش وحواس اڑجائیں گے ،کسی کوکسی کاہو ش نہ ہوگا، اپنی اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے ،بھائی بھائی سے بھاگے گا، اپنی ماں اورباپ سے بھاگے گا،اپنی بیوی بچوں سے بھاگے گا،ہرشخص کایہ حال ہوگا،کسی اورکاہوش ہی نہ ہوگا ، اس دن سارے بادشاہوں کی باشاہی ، وزراء وحکام اورافسران کے اختیارات چھن چکے ہو ں گے اور’’ےَاحَسْرَتَاعَلیٰ مَا فَرَّطْنَا فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ‘‘(ہائے افسوس ہم نے اس دن کے مالک کے حکموں کے ماننے میں کوتاہی کی)۔
لیکن اسی خوفناک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقہ کواپنانے والوں کے آرام وراحت کایہ عالم ہوگاکہ جنتی لوگ پھل فروٹ کھارہے ہوں گے، لذیذکھانوں کالطف لے رہوں گے،وہ اوران کی بیویاں آرام دہ و پُربہارسائے میں مسہریوں پرآرام سے بیٹھے ہوں گے اوران کومہربان اوراپنے مومن بندوں سے پیارکرنے والے آقا کا سلام پہنچے گا۔
تصویرکے یہ دونوں رُخ سامنے آجانے کے بعد شعبان کی مبارک گھڑیوں سے فائدہ اٹھانے کی کس جی جان سے کوشش کرناچاہیے،شعبان ہی کے مہینہ میں شق القمرکامعجزہ پیش آیاتھا،اس ماہ کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ،نیک اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچائے جاتے ہیں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’شعبان میرامہینہ ہے‘‘، اس مہینہ میں جوبندہ بھی تین روزے رکھتاہے اورافطار کے وقت مجھ پرتین بار دورد بھیجتاہے، اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،رزق میں برکت ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا ‘‘۔ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے یاشعبان کے چند دنوں کو چھوڑ کر باقی پورامہینہ روزہ رکھتے تھے ‘‘۔[متفق علیہ]
شعبان کی پندرہویں رات میں موت کادن متعین ہوتاہے ،اوررزق تقسیم ہوتاہے، سارے عالم پررحمت خدواندی سایہ فگن ہوتی ہے،سورۂ دخان کی آیات [۴۔۷]میں۱۵؍ شعبان کی رات کااس طرح ذکرہے:
’’اسی رات میں تمام حکمت کے کام کیے جاتے ہیں (یعنی)ہمارے حکم سے ،بے شک ہم ہی پیغمبر کوبھیجتے ہیں، یہ پروردگاکی رحمت ہے ،وہ توسننے والا اورجاننے والاہے جوکہ آسمانوں اورزمین کااورجوکچھ ان دونوں میں ہے سب کامالک ہے بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہوں‘‘ ۔
ایسے مبارک مہینہ کی خیروبرکت حاصل کرنے میں سستی وکوتاہی نہیں کرنی چاہیے،ہماری زندگیوں کاانجام موت ہے،ہم جتنے دن رات اعزاواقرباکے درمیان گذاررہے ہیں، یہ گزرنے والے دن رات ہم کوقبر کی تنہائی سے قریب کرتے جارہے ہیں ،زندگی کی بھلائی اوربہتری تواللہ ورسولؐ کی اطاعت میں ہے، جب حقیقت حال یہ ہے توہمیں اگلی زندگی کی کنتی فکرکرناچاہیے اوراس کوکامیاب بنانے کے لیے خیروبرکت کی جو گھڑیاں بھی حاصل ہوں، ان سے پورافائدہ اٹھانا چاہیے ،جوشخص خیروبرکت کے دنوں سے فائدہ اٹھاتاہے وہ دنیاوآخرت دونوں جہاں کی پریشانیوں سے اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان میں ہوتاہے۔
شعبان کی پندرہویں رات خاص طورسے بہت بابرکت رات ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کا بڑا اہتمام فرماتے تھے ،خیرخیرات ، نوافل و روزہ کے ساتھ قبرستان بھی تشریف لے جاتے اوراہل قبورکے لیے دعافرماتے تھے،ایک حدیث شریف میں آتاہے کہ:’’ اللہ تعالیٰ اس رات آسمان دنیا پرغروب آفتاب سے صبح صادق تک تجلی فرماتا اور ارشاد ہوتاہے کہ جوشخص اپنے گناہوں کوبخشواناچاہے بخش دوں گا،جوروزی حاصل کرناچاہے اس کوروزی دوں گا، اور جو کسی مصیبت میں ہواس کی مصیبت دورکردوں گا‘‘۔
جب اللہ تعالیٰ اپنے مو من بندوں کونوازنے کے لیے طرح طرح کی مبارک گھڑیاں،دن رات اورمہینے مقررفرمارکھے ہیں توشیطان اس نوازش کو دیکھ کر کیسے چین سے بیٹھے گا،وہ مومن بندوں کو بہکانے اوراللہ تعالیٰ کی نوازشات سے محروم کرنے کے لیے اپنے داؤں چلے گا،ان مبارک گھڑیوں سے ان کومحروم کرنے کے لیے ان کوکھیل تماشے میں لگادے گا، پٹاخے دغانے، گانے بجانے، قبروں پرمردں وعورتوں سب کامیلہ لگانے کا سجھا وہ دے گا،وہ رقم جواس رات غریبوں مسکینوں ،یتیموں ،بیواؤں کی مدد میں خرچ ہوتی، اس کوتماشوں کاسجھاوادے کر بربادکرنے کی جان توڑکوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ سورہ یٰسین میں فرماتاہے: ’’اے آدم کی اولاد! کیاہم نے تم سے یہ عہد نہیں لیا کہ شیطان کونہ پوجووہ توتم کوگمراہ کرنے والا تمہاراکھلاہوادشمن ہے‘‘۔
لہٰذاہم کویہ دیکھناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کوکیاسکھایا،بتایا اورعمل کرکے دکھایاہے،ہم اس کو چھوڑ کرجوطریقہ بھی اپنائیں گے، وہ شیطان کے بہکانے اورگمراہ کرنے والا طریقہ ہوگا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات قبرستان جاکراہل قبورکے لیے دعافرماتے تھے،ہم کوبھی اہل قبورکے ایصال ثواب کایہ طریقہ اپنانا چاہیے لیکن میلہ اورتماشے کی شکل میں نہیں ،حدیث شریف میں آیاہے کہ: مُردوں کاحال ڈوبنے والے شخص کی طرح ہوتاہے، وہ فریادی ہوتے ہیں ،جب ان کوایصال ثواب کیاجاتاہے توبالکل پہاڑ کی شکل میں ان کوپہنچتاہے،جب حقیقت یہ ہے توہم کواہل قبورکے ایصال ثواب کاکتنا اہتمام کرناچاہیے ،کل ہم بھی انھیں اہل قبورمیں شامل ہوں گے جب ہم ان کو ایصال ثواب کریں گے تواس کی اقتدامیں ہمارے بعدوالے ہم کوایصال ثواب کریں گے۔
مرنے کے بعد عمل کادروازہ بندہوجاتاہے، اب میت کووہی ملے گاجواس کے لیے دعائیں کی جائیں اورایصال ثواب کیاجائے،یااس نے صدقہ جاریہ کاکوئی کام کیاہو،مسجد بنوائی ہو،نیک اولادچھوڑکرگیاہو،اپنے خرچہ سے کسی کوحافظ عالم بنایاہویااس طرح کے دوسرے نیک کام جن کا سلسلہ جاری رہتاہے ۔
لہٰذاہمیں اپنامال ایسے کاموں میں لگاناچاہیے نہ کہُ ان کاموں میں جوشیطان ہم کوسجھائے اوربتائے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے خلاف خرچ کرناگناہ کبیرہ ہے،اللہ تعالیٰ نے بے جامال خرچ کرنے والوں کوشیطان کابھائی بتایاہے :’’اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ ‘‘[بنی اسرائل:۷](فضول خرچی کرنے والے توشیطان کے بھائی ہیں)۔لہٰذاہم کواس سے بہت بچناچاہیے۔
ہمارے بے پڑھے عوام جومحنت ومشقت سے روزی حاصل کرتے ہیں ،وہ جو کچھ آنکھ سے دیکھتے ہیں اسی کودین سمجھتے ہیں، ان کوکچھ خبر نہیں ہوتی ، لہٰذاپڑھے لکھوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کوشعبان کے مبارک مہینہ میں جوغلط رسمیں پھیلی ہوئی ہیں، اپنے قریب کے لوگوں کوجن سے اکثر ملناجلنا ہوتاہے ، ان غلط رسموں سے روکیں، ان بے پڑھے لکھے اورنچلے طبقہ کے لوگوں کاتھوڑاعمل بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی قیمت رکھتا ہے،ان کوسکھانے اوربتانے کااورصحیح راہ پر لگانے کااتناثواب ہے جیسے کسی کوسرخ اونٹنی مل جائے جو عربوں میں سب سے قیمتی سمجھی جاتی تھی۔
لہٰذااگرہم شعبان المعظم کی خیروبرکات کے حاصل کرنے کے ساتھ لوگوں کے سکھانے اوربتانے کابھی یہ اجرحاصل کریں تونورٌعلی نورٌ۔
*****