ماہِ شعبان میں رحمت الٰہی کے جھونکے

عملی قدم اٹھانے سے پہلے اپنا جائزہ
مارچ 26, 2018
ماہِ رمضان ۔ ذکر و عبادت کا موسم بہار
مئی 1, 2018

ماہِ شعبان میں رحمت الٰہی کے جھونکے

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب (محمدصلی اللہ علیہ وسلم )کوسارے انبیاء ومرسلین کاسردار بنایا ہے ،اس لیے اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم )کی امت کوبھی ایسے شرف وفضائل سے نوازاہے جن سے دوسری امتوں کونہیں نوازا،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کاامتی جب مسجد کی طرف چلتا ہے تواس کے ہرہرقدم پرایک گناہ جھڑتااورایک مرتبہ بلندہوتاہے ،یہ روزہ مرہ کی پانچ وقت کی فضلیت کاذکرہے ،اللہ تعالیٰ اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت کوبہت معمولی اعمال پربڑے بڑے اجرسے نوازتاہے،حدیہ کہ وہ تہجدکی نیت کرکے سوئے توپوری رات نماز میں شمار ہوتی ہے،انھیں فضائل ونوازشات میں سے شعبان المعظم کے خیروبرکات ہیں ،رمضان المبارک کامہینہ قریب ہے ،اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے شعبان المعظم کوایسے فضائل وبرکات سے بھردیاہے جوماہ مبارک کے روزوں کاحق اداکرنے کی قوت وطاقت اورشوق وجذبہ پیداکریں۔
اس لیے اللہ کے محبوب حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔خصوصاً اس ماہ کی پندرہویں رات کابڑااہمتام فرماتے تھے ،خیرخیرات اورنوافل کے اہتمام کے ساتھ قبرستان بھی تشریف لے جاتے اوراہل قبورکے لیے دعاکرتے ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پندرہویں رات کااتنا اہتمام فرماتے تھے کہ ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کوبتاکرنماز پڑھناشروع فرمایا،اس میں اتنالمباسجدہ فرمایاکہ مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی موت کاخطرہ معلوم ہوا،میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تلوے پرہاتھ رکھا ،جب اس میں حرکت ہوئی تواطمینان ہوا،اوربہت خوش ہوئی ،خصوصاً شعبان کی پندرہویں رات کونماز پڑھنا ،اوردن میں روزہ رکھنا مسنون ہے ،ایک حدیث میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات آسمان دنیا پرغروب آفتاب سے صبح صادق تک تجلی فرماتاہے ،اورارشادہوتاہے جوشخص اپنے گناہوں کو بخشوانا چاہے بخش دوں گا ، جوروزی حاصل کرناچاہے اس کوروزی دوں گااورجوکسی مصیبت میں ہواس کی مصیبت کودورکردوں گالہذا اس رات نوافل پڑھنے اورتوبہ واستغفار کااہتمام کرناچاہیے ۔
یہ کتنے افسوس اورنقصان کی بات ہوگی کہ ہم رات نوافل وعبادت میں گذارنے کے بجائے پوری رات پٹاخے چھڑانے اورتفریح وچراغاں کرنے میں گذاردیں ،جوآخرت سے غافل کرنے والا عمل اورخداکی منکرقوموں کاشعار ہے۔
حدیث شریف میں آتاہے کہ :صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کودورکرتاہے ،ایک اورحدیث میں ہے: ’’اتقوا النارولوبشق تمرۃ‘‘کہ جہنم کی آگ سے بچوچاہے کھجورکے ایک ٹکڑاہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔
ہم چوبیس گھنٹے کی اپنی زندگی کاحساب لگائیں،دیکھیں کہ ہماراکتناوقت آخرت سے غفلت اورخداکوناراض کرنے والے کاموں میں گذرتاہے ،پھر اس کی کتنی سخت ضرورت ہے کہ صدقہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کودورکریں ،مگریہ نہ کرکے خداکے غصہ کوبڑھانے والے کھیل تماشوں اورنام وشہرت والے کاموں میں رقم نہ ہوتوقرض لے کرروپئے خرچ کریں جبکہ دین کے بہت سے کام رقم نہ ہونے کی وجہ سے رکے رہتے ہیں۔
شعبان المعظم کی ان بابرکت گھڑیوں اورشب برات کی اس تجلی رب کے وقت بھی جب وہ فرمارہاہے کہ جوشخص اپنے گناہوں کوبخشواناچاہے بخش دوںگا،جوروزی حاصل کرناچاہے اس کوروزی دوں گاورجوکسی مصیبت میں ہواس کی مصیبت کودورکردوں گا،ہماراحال یہ ہے کہ ہم اللہ کی اس عنایت ونوازش کے وقت توبہ استغفار دعاوانابت سے غافل ہوکران مصیبتوں پریشانیوں کے بڑھنے کی دعوت دیں۔
شمس الحق ندوی