قربانی کی اصل روح

رمضان کے بعد حج کے چرچے ہوجاتے ہیں
اگست 14, 2017
حج وقربانی کے بعد فکر و تقویٰ کی ضرورت
ستمبر 1, 2017

قربانی کی اصل روح

قربانی کی اصل روح

قربانی کالفظ جتنی بار ہماری زبان پرآتاہے ، اتنا شاید ہی کسی اورلفظ کو دہرایا جاتا ہو لیکن آج ہمارے اندر قربانی کی جتنی کمی ہے اتنی شاید کبھی رہی ہو، خود اسلام کے معنی بھی تواپنا سب کچھ خدا کے تابع فرمان کردینے کے ہیں، مگر ہم زندگی کے ہر شعبہ میں قربانی سے پہلو تہی کرتے ہیں کہ جب تک کوئی بھی کام ہماری منشا و مرضی کے مطابق نہ ہو، ہم اس میں شریک ہونے سے کتراتے ہیں، بلکہ بسااوقات اس کی مخالفت اورمخالفت سے بڑھ کر اس کے ساتھ عناد کا معاملہ کرتے ہیں، چاہے ہمارے اس رویہ سے اسلام ومسلمانوں کو کتناہی زبردست نقصان پہنچ رہاہو، دین وملت کے مفاد میں اپنی رائے سے تنازل بھی قربانی ہے، شعائر اسلام پر کاربند رہنا بھی قربانی ہے ، اسلام اور مسلمانوں کے لیے در پیش خطرات کے مقابلہ کی تگ ودو بھی قربانی ہے، اپنے فرض منصبی کی ادائیگی بھی قربانی ہے، ان تمام احکامات واصولوں کی پابندی بھی قربانی ہے جوقرآن وحدیث میںمسلمانوں کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

اب ہم ذرا اپنی قربانی پرغورکریں، اوراپنی زندگی کاجائزہ لے کردیکھیں کہ کہیں ایسا تونہیں کہ ایک بکرے کی قربانی نے ہم کوتمام قربانیوں سے چھٹی دے دی ہو، اگرہم اپنی زندگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تومعلو م ہوگا کہ ہم قربانی کی اصل روح اورحقیقت سے بہت دور ہیں، جس کانتیجہ یہ ہے کہ گھروں اور خاندانوں سے لے کر جماعتوں اورمکاتب فکر اور اداروں اورانجمنوں تک میں انتشار بپا ہے، اوروہ اسلام جس کاڈھانچہ سراسر ایثار وقربانی پرقائم ہوتاہے ،اس کا ایک ایک جوڑ ڈھیلا ہورہاہے۔

عیدا لاضحی میں جانور اس لیے نہیں ذبح کیے جاتے کہ خدا کی زمین خون سے لالہ زار ہوجائے، بلکہ یہ قربانی کسی بلند مقصد کے لیے کی جاتی ہے ،اونچا مطمح نظر سامنے ہوتاہے اوریہ پاکیزہ مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت کواپنے اندر جاری وساری کرنا ہوتاہے، جس کے ذریعہ نفس کورذالت کی آلائشوں سے پاک کیا جاتاہے، تاکہ پاکیزہ قدریں ابھریں، دل میں فداکاری، اورجاں نثاری کاجذبہ پیداہو، علم وہنر میںضرب کلیمی کی شان پیدا ہو اوروہ کام جومشکل ودشوار معلوم ہوتے ہیں، قربانی ان کوآسان کردے، یہ ہے عیدالاضحی میںجانوروں کی قربانی کی اصل روح، اسی لیے قربانی کرنے والا، جانور کی گردن پرچھری چلانے سے پہلے اپنے رب کے سامنے اقرار کرتاہے اورکہتاہے: میںنے پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ ٹھیک خدا کی طرف کرلیاہے ، جس نے آسمانوں اورزمینوں کو پیدا کیا، اورمیں شرک کرنے والوںمیںسے نہیںہوں، بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اورموت سب رب العالمین کے لیے ہے ، اس کاکوئی شریک نہیں، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے، اورمیں مسلم اورفرماں بردار ہوں، خدایا! یہ تیرے ہی حضور پیش ہے اورتیرا ہی دیاہواہے،اس کے بعد وہ بڑی عجیب کیفیت کے ساتھ جانور کے گلے پر چھری پھیرتے ہوئے کہتاہے:
’’بسم اللّٰہ، اللّٰہ أکبر، اللّٰھم تقبّلہ منی کما تقبّلت من خلیلک ابراہیم و حببیک محمد علیھما الصلاۃ والسلام‘‘(شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے ، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تواس قربانی کو میری جانب سے قبول فرما، جس طرح تونے اپنے دوست ابراہیم علیہ السلام اوراپنے حبیب محمدصلی اللہ علہ وسلم کی قربانی قبول فرمائی)۔

زندگی میں ایسے بھی مواقع آتے ہیں کہ خداکی رضااوردین وملت کے مفادکے لیے اپنے جاہ ومنصب تک کی قربانی دینی پڑتی ہے اور سب سے مشکل قربانی اپنے جاہ و انااورجماعتی وگروہی عصبیت ہی کی ہوتی ہے، جس کوقوم و ملت کے مفادعامہ کے لئے پیش کردینا ہوتاہے، اس سیاق میں ہم دیکھیں توہم کو نظرآئے گاکہ ایک قربانی وہ ہے جوسیدناحضرت خالدؓبن ولیدنے یرموک میں دی تھی، دوسری قربانی وہ ہے جو حضرت حسن بن علیؓ نے حضرت معاویہؓ کے مقابلہ میں امت کے انتشار کوختم کرنے کے لیے دی تھی اوروہ بھی ایک قربانی ہے جوحضرت عمربن عبدالعزیزؒنے (اسلامی مملکت اور اسلا می سیرت کی راہ پر لگانے کے لیے) اپنی زندگی کوبدل کراوراپنے خاندان کے مفادسے آنکھیں بندکرکے دی تھی۔
آج امت مسلمہ جن خطرات وحوادث سے دوچارہے، ان میں ان تینوں قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے، کیاہم اس کاحوصلہ رکھتے ہیں کہ جانورکی گردن پر چھری چلاتے وقت قربانی کی اصل روح کوتازہ کرکے اپنی ہرایک خواہش پرچھری چلادیں جس کے پوراکرنے میں دین وملت کونقصان پہنچتاہو۔
بکرے کی قربانی کرنا تو آسان ہے،لیکن اپنی انا اور جذبات کی قربانی آسان نہیں، علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اس کی جو حقیقت بیان کی ہے،ہم اس وقت اسی پر اکتفا کرتے ہیں:
’’روحانی قربانی جسمانی قربانی کے مقابلہ میں یقیناً ذبح عظیم ہے،جسمانی قربانی کی تکلیف تو ایک لمحہ کی بات ہے،مگر روحانی قربانی تو کسی امر حق کی خاطر ساری زندگی جیتے جی کی قربانی ہے،جس میں مرکر نہیں،بلکہ جی کر حق کی راہ میں ہرتکلیف اور مصیبت کو انگیز کرنا اور ہر وقت موت کے لیے آمادہ رہنا۔

حضرت اسماعیلؑ نے اس کی خاطر ملک شام کے سبزہ زار کو چھوڑا،وہاں کے عیش وآرام کو خیرباد کہا،عزیزواقارب کو ترک کیا،اور ایک لق ودق صحرا میں تنِ تنہا رہنا گواراکیا،وہاں خدا کے نام کا ایک گھر بنایا،اور اس کو تنِ تنہاآنے جانے والے مسافروں اور سوداگری کے قافلوں کے لیے مرکزی گذرگاہ ٹھہرایا،اور اس طرح دین حق کی تبلیغ ،اور خانۂ خدا کی پاسبانی کے لیے نہ صرف اپنی زندگی تک بلکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور تک جو’’رَبِّ وَابْعَثْ فِیْھِمْ‘‘کی ابراہیمی دعا کی قبولیت کا زمانہ تھا،اپنی پوری نسل کو صحرائے بے آب وگیاہ میں گذاردینے کا حکم دیا،یہ تھی وہ عظیم الشان قربانی،جو حضرت اسماعیلؑ کی جسمانی قربانی کی تمثیل میں حضرت ابراہیمؑ کو دکھائی گئی،اور آج کے دن تک یہ روحانی قربانی ملت ابراہیمی کی حقیقت اور نسل اسماعیلی کی شریعت ہے،اور جانور کی جسمانی قربانی اس حقیقت کا مجاز ہے،اور اسلام میں جہاد اس مجاز کی حقیقت ہے۔

شمس الحق ندوی