عید قرباں میں اخلاص نیت

انا للہ وانا الیہ راجعون-ندوۃ العلماء لکھنؤ کے نائب ناظم و ناظر عام ، معتمد مال اور عمید کلیۃ اللغۃ جوارِ رحمت میں
جون 27, 2021
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ستمبر 6, 2021

عید قرباں میں اخلاص نیت

مسلمان ہفتوں اورمہینوں پہلے سے قربانی کاجانور خریدتا، اس کوکھلاتاپلاتا اور اپنے سے مانوس کرتاہے ، اس لیے کہ اس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشا د سنا ہے:’’سمّنوا ضحایا کم فانھا علی الصراط مطایا کم‘‘(تم اپنے قربانی کے جانوروں کوخوب فربہ کرو کہ پل صراط پر وہی تمہاری سواری ہوںگے) ۔

مسلمان اپنے پالے ہوئے اس جانور کوجب قربان کرنے کے لیے لٹادیتاہے اوراس کی گردن پرچھری رکھتاہے تو بسا اوقات اس کی آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں کہ اس جانور سے اس کو اُنس ہوگیا تھا ،اس کواپنے ہاتھو ں سے کھلایاپلایاتھا، اُس کی محبت دل میںگھر کرگئی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ چھری چلا دیتا ہے اوردل کے تعلق ومحبت کی سوزش کو یہ کہہ کربجھا دیتا ہے:’’انَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘[الانعام:۱۶۳](بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت، اللہ رب العالمین کے لیے ہے )۔

خلاصہ یہ ہے کہ میں اور میراسب کچھ اللہ کے لیے ہے، جب اللہ کے لیے ہے توپھر اس جانور سے میر ی محبت اس کی گردن پرچھری پھیرنے سے مانع کیوں ہو؟ جب کہ خداہی کے نام پراس کوذبح کررہاہوں۔

مؤمن بندہ رنج وقلق کے بجائے شوق وسرمستی کے جذبات میںسرشار ہوکر چھری چلا دیتاہے ،اپنی آنکھوں سے، خون کافوارہ نکلتے دیکھتاہے اور خوش ہوتا ہے کہ آقا کا حکم بجالایا ، آقاکاحکم بجالانا اصل قیمت اسی جذبہ کی ہے ، اگریہ جذبہ نہ ہوتو اس قربانی کی کوئی قیمت نہ ہو ،فرمایا : ’’لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلاَ دِمَائُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوَیٰ مِنْکُمْ‘‘ [حج:۳۷] (اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کاگوشت یاخون نہیںپہنچتا ،بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتاہے )۔

’’تمہارا تقویٰ پہنچتاہے ‘‘یہ لفظ قربانی کرنے والے کوہوشیار ومتنبہ کرتاہے کہ دیکھو! کہیں اس میں شہرت وناموری کاجذبہ نہ کام کرنے لگے کہ فلاں نے اتنی قربانیاں کیں یااتناقیمتی جانور ذبح کیا ، ذبح سے پہلے اس کوگلی کوچوں میں پھرایا کہ شہرت ہو،لوگ واہ واہ کریں ، تقویٰ کے ساتھ واہ واہ کاگزرنہیں، بلکہ تقویٰ تو متقاضی ہوتاہے آہ آہ کاکہ کرکے بھی ڈرتارہے کہ قبول بھی ہوایانہیں۔

ہم مسلمانوں میںشہرت وناموری کے لیے زندگی کے مختلف مواقع پر اسراف وفضول خرچی کی ایسی ریت پڑگئی ہے کہ ہم ان مواقع پربھی اس کے پھندے سے نہیںنکل پاتے، جوخالص عبادت ہیں،چنانچہ اب قربانی کے جانور کے ساتھ بھی ہم میں سے بہت سے لوگ یہ کرنے لگے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ قیمت کا جانور خرید لیتے ہیں، پھر اخباروں میں اس کاذکر آتاہے ،اس جانور کی نمائش ہوتی ہے، اس کوہار پھول پہنائے جاتے ہیں، سڑکوں پرپھرایاجاتاہے ،یہ رسم ایسی بڑھتی جارہی ہے کہ اب باقاعدہ مہم کے طور پر لوگوں کو قربانی کی حقیقت بتانے اورسمجھانے کی ضرورت ہے ۔

کہاں قربانی کی یہ فضیلت کہ قربانی کے خون کاقطرہ زمین پر گرنے سے قبل خدا کے یہاں مقبول ہوجاتاہے اورجانور کے جسم پرجتنے بال ہیں اتنی نیکیاں ملتی ہیں،اورکہاں یہ نادانی کہ ہم اس عظیم الشان عبادت کو شہرت وناموری کے پیچھے اکارت کردیں، ذرا ہم یہ توخیال کریں کہ یہ قربانی کس قربانی کی یادگار ہے ؟ایک باپ نے اپنے خالق کے حکم سے بکرے ،دنبے،اونٹ،بیل کی گردن پہ نہیں،بلکہ اپنے لخت جگرکی گردن پرچھری پھیر دی تھی ، یہ کوئی معمولی قربانی نہ تھی، کوئی اپنے نورچشم اور جگر پارہ کوسامنے کرکے ایک لمحہ کے لیے یہ تصور کرے کہ اس کو بچے کوذبح کرنا ہے،دل پر کیا گزرے گی ؟ مگر سیدناابراہیم علیہ السلام نے یہ انہونی کردکھائی ۔

جب یہ قربانی یادگار ہے اس ذبح عظیم کی ،توکیوں اس کوشہرت وناموری کے شوق میںبے کار ورائیگاں بلکہ نیکی برباد ،گناہ لازم کامصداق بنایاجائے ۔

ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جوباوجود استطاعت کے قربانی نہیںکرتی ، دنیا کے سارے کام کرڈالتی ہے، دیگر رسوم و رواج میںبے تحاشا خرچ کرڈالتی ہے، مگر قربانی جوایک فریضہ ہے ، اس کی ادائیگی سے غفلت برتتی ہے، بسااوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ قربانی توہوتی ہے، مگر جو بشاشت و انبساط ہوناچاہیے وہ نہیںہوتا، بلکہ سر سے بارا تارا جاتاہے ، حالانکہ قربانی کے دنوں میں قربانی کے عمل سے بڑھ کر کوئی اور عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔

یہی وہ دن ہوتے ہیں جب حجاج طواف و سعی اورمنیٰ ومزدلفہ میں’’ اللّٰھم لبیک لبیک‘‘ (میرے مولا! حاضر ہوں، حاضر ہوں) کی صدا بلند کرتے ہیں،اپنے رب سے روتے گڑگڑاتے ہیں، قربانی پیش کرتے ہیں، ہم وہاںنہیں پہونچ سکتے تو قربانی توکرسکتے ہیں۔

ہمارا کچھ عجب حال ہوگیاہے، دوسری قوموں کی دیکھادیکھی خالص دینی چیزوں اور عبادت کوبھی کھیل تماشابنالیتے ہیں، ہمیں مظاہرہ اور دکھاوے کا ایساشوق ہوتا ہے کہ عبادت کی اصل روح کوبھول جاتے ہیں، رمضان المبارک میں ترتیل کے ساتھ اطمینان سے پورے رمضا ن میں ایک قرآن کا تراویح میں ختم کرناسنت ہے، اکثر ایسا ہوتاہے کہ پہلے عشرہ میں قرآن ختم ہوگیا، باقی پورے رمضان کی تراویح  ’’اَلَمْ تَرَکَیْفَ‘‘سے ہوتی ہے، شبینہ کا ایسا شوق ہوتاہے کہ اس میں قرآن کریم کا ادب نہیں ملحوظ رہتاہے، قاری تیزی کے ساتھ ایسی تیزی کہ پورے الفاظ بھی واضح نہیں ہوتے، پڑھتاجاتاہے، لوگ چائے پینے اور سگریٹ نوشی میںمشغول ہوتے ہیں، چند لوگ امام کے پیچھے قرآن سنتے ہیں ،یہ قرآن کی تعظیم ہے یا توہین ؟نکاح جوخالص دینی فریضہ اور عبادت ہے اس کوکلیۃً دنیاوی چیز بنادیاگیاہے اور اس کی رسوم ایسی کمرتوڑ ہیں کہ شادی خانہ آبادی کے بجائے شادی خانہ بربادی بن گئی ہے ، اس شادی میںجس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ان أعظم النکاح برکۃً أیسرہ مؤنۃً‘‘( سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو) لاکھوں روپئے صرف کیے جاتے ہیں اور پڑوس میں یتیم اور بیوائیں خالی پیٹ رات گزاررہے ہوتے ہیں ۔

اسی طرح سے عقیقہ سنت ہے، اگریہ سنت کے مطابق ہو توموجب اجروثواب ہے، مگراس کا بھی یہ حال ہے کہ یاتولوگ غفلت برتتے ہیں، اس سنت کو کوئی اہمیت ہی نہیںدیتے اوریاپھراس دھوم دھام سے عقیقہ کرتے ہیں کہ رقص وسرور کی بھی مجلس گرم ہوتی ہے اوریہ نہیں تو فلمی گانے تو ضرور ہی ہوتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭

شمس الحق ندوی