عملی قدم اٹھانے سے پہلے اپنا جائزہ

کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟
مارچ 11, 2018
ماہِ شعبان میں رحمت الٰہی کے جھونکے
اپریل 19, 2018

عملی قدم اٹھانے سے پہلے اپنا جائزہ

اس وقت امت مسلمہ جن حالات سے دوچارہے، ہرچہار طرف سے جس طرح دشمنوں اور باطل کے نرغہ میں ہے، اس کو سنبھالنے اور منجدھار میں پھنسی ہوئی اس کی کشتی کوساحل سے ہم کنار کرنے کے لیے بڑے فکرو تدبر،جانفشانی اورایثار وقربانی کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے کوئی بھی عملی قدم اٹھانے سے پہلے خود اپناجائزہ لیناسب سے اہم اوراس میں کامیابی کی شرط اول یہ ہے کہ ہم جوقدم اٹھارہے ہیں ،اس میں قوم کی صلاح و فلاح اورطلب رضائے مولیٰ کاجذبہ کتناپایاجاتاہے ؟کوئی بھی اقدام اگراس جذبہ سے خالی ہے اوراس میں جاہ پرستی ،شہرت وناموری یا ذاتی مفاد کا جذبہ کام کررہاہے تواس کاانجام ناکامی ورسوائی اوردین و ملت کے نقصان کے سواکچھ نہیں ہوسکتا۔
ایسابہت ہواہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص ایثار پسنداورقوم وملت کادردرکھنے والے حضرات نے کام شروع کیا،قوم ان کے سائے میں چلی اور کامیاب ہوئی، اس سے ملت کے اندرخوداعتمادی اورجذبۂ عمل پیداہوا،اس کے اچھے نتائج سامنے آئے لیکن جب اس میں مفاد پرست، جاہ پسنداورسیاسی بازی گروں کاعنصر شامل ہوگیاتوقوم غلط رخ پرچل پڑی اوراس کاوقار ،رعب ودبدبہ جو خلوص وحسن کردارسے حاصل ہو ا تھا اورترقی کررہاتھا،ختم ہوکررہ گیا،مخلصین توپس پردہ چلے گئے،اورقوم ان خودغرضوں، ضمیر فروشوں اورخدافراموشوں کی بھینٹ چڑھ گئی، اس لیے کہ عوام الناس کوجوش وجذبہ کی باتوں اورتالی بجانے میں زیادہ مزہ آتاہے، مقررین بھی سمجھتے ہیں کہ ہماری حیثیت پہلے کارکنوں سے بہت بڑھی ہوئی ہے ،یہ تالیاں ہماری مقبولیت کی دلیل ہیں۔
قوم کی وہ قیادت ورہنمائی جونفس کی چاہت اورشہرت کی طلب سے حاصل ہوتی ہے ،وہ ملت کوجوڑنے اورایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے ا ور سب کوساتھ لے کرچلنے میں کامیاب نہیں ہوپاتی، اس لیے کہ قیادت کوبہت کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں ،مختلف مزاج و نفسیات رکھنے والے لوگوں کولے کرچلنے کے لیے بڑی دوراندیشی، حکمت وتدبرکی ضرورت ہوتی ہے، یہ بات خودغرض، شہرت طلب اورمادہ پرست قیادت میں نہیں ہوتی، نہ اس کے ساتھ نصرت خداوندی ہوتی ہے جیساکہ بعض حدیثوں میں آیاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کوعہدہ طلب کرنے پرانھیں اس سے روکااورفرمایاجس منصب کاباربلاطلب اٹھانا پڑتاہے اس میں خداکی مددونصرت ہوتی ہے اوراس نصرت کے انعام میں اس کودل دانا،دل بینا اوردل شنواحاصل ہوتاہے، اور قائداس کی روشنی میں ہرفکرومزاج کے لوگوں کوسنبھالے رہنے اوررایک کڑی میں جوڑے رکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ورہوتاہے ، وہ اپنے کوشمع کی طرح جلاتاوپگھلاتاہے مگراپنی سعی بھراس شیرازہ کوبکھرنے نہیں دیتا۔
خودغرضانہ اورنفع اندوزذہنیت اورمفاد پرست طبیعت کاخاصہ یہ ہے کہ وہ غلط تاویلات، من مانی تشریحات اوربعض وقت اس سے بھی آگے بڑھ کر۔جائز وناجائزقانونی اورغیرقانونی عمل کاخیال نہیں کرتی،ذاتی مفاد پرستی کااس پراتناغلبہ ہوتاہے کہ اجتماعی نفع و نظام اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتاہے، اس وقت مشرق سے لے کرمغرب تک کے سربراہوں کایہی حال ہے ،قومی و ملی مفاد کا ذکر تومحض زبان کاچٹخارہ بن کررہ گیاہے، اس کاذکراتناہی کیاجاتاہے جتنے سے ذاتی فائدہ اٹھایاجاسکے ۔
موجودہ صورت حال جہاں پختہ ایمان وعقیدہ کی متقاضی ہے ،وہیں بڑی سنجید گی اورفکر کی گہرائی کی طالب ہے ،بڑے ایثار و قربانی کی بھی طالب ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے اپنے لوگ محض چندسکوں پرخریدلیے جاتے ہیں اوران سے دین وملت کے خلاف کام لیاجاتاہے، ان سے ایسے بیانات دلوائے جاتے ہیں ،ایسی باتیں کہلوائی جاتی ہیں جن سے ا مت مسلمہ اختلاف و انتشار کاشکارہو،باہم دست وگربیاں ہو،مخالفین اسلام اس حربہ ،اس داؤں اورچال کوبہت عرصہ سے استعمال کررہے ہیں اوراس سے اسلام ومسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچ رہاہے۔
ملت کادردرکھنے والے کارکنوں کوغیرمعمولی دشواریوں سے گزرنا پڑرہاہے،ملت کے اندرنئی روح پھونکنے اوراس کی تربیت و رہنمائی کی اصل ذمہ داری علماء ربانی پر ہے ،جووارثین انبیاء ہیں اوروہی اس فریضہ کواداکرتے آئے ہیں، لہٰذاان کواپنی زندگی کا نمونہ بھی ایساپیش کرناہوگاجس سے معلوم ہوکہ کسی اورہی دنیا کے لوگ ہیں،انبیاء کرام علیہم السلام کے نائبین ہیں، یہ مادیت کے مارے ہوئے اوراس کے فریب خوردہ نہیں ہیں، ان کی شان استغناسے معلوم ہوکہ دولت ہی سب کچھ نہیں ہے ،ہم کسی کے دروازہ پر نہیں جاتے ،جاتے ہیںتودین کی دعوت لے کرجاتے ہیں ،کسی فریضہ یاسنت کواداکرنے کے لیے جاتے ہیں،اس عالمانہ فریضہ کو انجام دینے کے لیے بقول شاعر ؎
در کفے جامِ شریعت در کفے سندان عشق
ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن
کی عملی تصویربنناپڑے گاجوہمارے اسلاف کی زندگیوں میں آئینہ کی طرح نمایاں ہے ،ہمارے اسلاف نے ایسے حالات میں پورے ایثاروقربانی کاثبوت دیااورکام کیاہے ،اوردین کوہرتحریف وتبدیلی سے بچایاہے اوردین اپنی اصل شکل میں موجودہے ۔