رمضان کے بعد حج کے چرچے ہوجاتے ہیں

شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری کا حادثۂ وفات
جولائی 25, 2017
قربانی کی اصل روح
اگست 25, 2017

رمضان کے بعد حج کے چرچے ہوجاتے ہیں

رمضان کے بعد حج کے چرچے ہوجاتے ہیں
شمس الحق ندوی
کعبۃ اللہ شریف کی چھوٹی سی چوکور عمارت پہاڑوں کے دامن میں تھی ،لیکن چند میٹر اونچی یہ عمارت اپنے،جلال وجمال میں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی نظر آتی تھی ،پہاڑ بہر حال ہماری نظروں میں بے جان پتھروں کی چٹان تھے،اب ان پہاڑوں کو کاٹ کراونچے ہوٹلوں ،فلک بوس عمارتوں سے گھیر دیاگیاہے،ان ہوٹلوں میں آرام وراحت کے سارے وسائل موجود ہیں،جس سے ان میں ر ہنے والوں کوآرام تو ملتاہے لیکن دلوں کی دھڑکنوں کے تار مختصر عمارت ہی سے جڑے رہتے ہیں،ان اونچی عمارتوں اور آرام وراحت کے سازوسامان سے اس میں کوئی فرق نہیں آتا،دنیا کے بڑے بڑے ملک اور شہرادنیٰ ترقی اور زیب وزینت میں خواہ کتنے ہی کمال کو پہونچ گئے ہوں،لیکن ایک بندۂ مومن کو حرمین شریفین ، مکہ اور مدینہ میں جو جلال اور جمال نظر آتاہے،وہ اس کو کہیں بھی نظر نہیں آتا،اس لیے اپنے ملک سے دوسرے کسی ملک میں جانے والے کے دل میں وہ شوق ووارفتگی ،جذب وسرمستی نہیں پیدا ہوتی جو حرمین شریفین جانے والے کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے،رمضان المبارک کی بابرکت وپر انوار گھڑیاں گزریں،اور اب حج کے دن قریب آرہے ہیں،حج کو جانے والوں کے دل حرمین شریفین ،مکہ مدینہ پہونچنے کے شوق میں خوش ہیں کہ ان کو ایسی عظیم عبادت کا شرف حاصل ہوگا جس کے ادا کرنے سے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائیں گے جیسے کہ پیٹ سے بے گناہ اس دنیا میں آئے تھے،حج میں حج کی روحانیت ونورانیت کے ماحول میں سخت سے سخت دل بھی موم اور پتھر جیسے جگر بھی پانی ہوجاتے ہیں ، باغی اور نافرمان بھی توبہ وانابت کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں،وہ آنکھیں جن سے خوف یامحبت کے دوقطرے بھی نہ ٹپکے تھے،یہاں پہونچ کر اشکبار ہو جاتی ہیں،رحمت الٰہی کا نزول ہوتاہے اور پورا ماحول سکینہ کے آغوش میں آجاتاہے،شیطان کو منھ چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملتی ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’شیطان عرفہ کے دن سے زیادہ حقیروذلیل ،راندۂ درگاہ اور غصہ سے جلا بھنا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا،اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے کہ رحمت الٰہی نازل ہورہی ہے،اور اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہوں کو معاف کررہاہے،کتنے خوش نصیب ہیں وہ حضرات جن کو اس سال حج کی سعادت نصیب ہوگی،اور وہ ان فضائل ومناقب سے نوازے جائیں گے جن کا اوپر ذکر ہوا،اس لیے حج کو جانے والے بھائیوں سے یہ عرض کرنا شرف وسعادت کی بات ہوگی کہ حج میں اللہ رب العزت کی جو نوازشات وعنایات ہوںگی،ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ابھی سے تیاری کریں،دعاؤں کی کثرت کہ حج کے وہ فوائد حاصل ہوں جو بیان ہوئے، عاشق کواپنے محبوب سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت ہوتی ہے،اس کعبہ کی نسبت اللہ رب العالمین کی طرف ہے،اس لیے مسلمان کا اس کا مشتاق ہونا فطری بات ہے،حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ سے اس کو اچھی طرح سمجھا جاسکتاہے،موسیٰ علیہ السلام کہیں جارہے تھے ،بکریوں کے ایک چرواہا کے پاس سے گزرے،سناکہ وہ اللہ رب العالمین کی محبت میں بڑے شوق ومستی کے ساتھ کہہ رہاہے کہ:
اللہ تعالیٰ !آپ مل جاتے تو میں آپ کے سر میںتیل ملتا،خدمت کرتا،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو تنبیہ کی،منع فرمایا کہ ایسا نہ کہو،اللہ تعالیٰ انسانوں جیسے نہیں ہیں کہ تم ان کی خدمت کرو،وہ خاموش ہوگیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غیب سے آواز آئی ،موسیٰ !تم نے اس کو منع کیا ،یہ نہیں دیکھا کہ وہ کس شوق ومحبت میں کہہ رہاہے،بندۂ مومن کو کبھی کبھی ایسا اشتیاق ہوتاہے،اور محبت جوش مارتی ہے،اس کی اس محبت کی تسکین کا سامان حج میں رکھاگیاہے،لہٰذا جن خوش نصیبوں کو یہ سعادت حاصل ہورہی ہے،اس عاشقانہ محبت کے لیے ابھی سے اپنے اندروہ کیفیات پیدا کرنے کی فکروکوشش کریں، جن سے شعائر حج کو ادا کرنے میں عاشقوں کی دیوانگی اور مستی کا لطف آئے۔
خوش نصیب حاجیوں کی ان کیفیات کو بیان کرنے کے بعد جو اوپر ذکر ہوئیں،یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک بڑی تعداد نے حج کو کاروبار کا ذریعہ بنالیاہے،زکوٰۃ جو فرض ہے،اس کو پوری طرح نہ ادا کریں گے،اور حج باربارکریں گے جو زندگی میں ایک بار فرض ہے۔قرب وجوار اور پڑوس میں کتنے یتیم اوربیوائیں ،فقراء ومساکین بھوکے برہنے زندگی گزاررہے ہوتے ہیں،ان محتاجوں کو بھوکا پیاسا چھوڑ کر بس حج ہی ہوتارہے،ایک حدیث میں مذکور ہے کہ :قیامت میں کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے پڑوسی کا دامن پکڑے ہوئے اللہ سے عرض کریں گے،یا اللہ !اس سے پوچھیں،اس نے اپنا دروازہ بند کرلیاتھا،مجھے اپنی ضروریات سے زائد جو چیز ہوتی ،وہ بھی نہ دیتاتھا۔
اس مناسبت سے ہم ایک بڑا مفید ومؤقر واقعہ نقل کرنا مفید ومناسب سمجھتے ہیں:حضرت مولانامحمد یوسف کاندھلویؒ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا،حاجیوں کاایک قافلہ ایک جگہ ٹھہراہوتھا،(جب موجودہ وسائل نہیں تھے) ایک حاجی صاحب نے دیکھا کہ دوعورتیں پردہ پوش گھوڑے پر گئیں،وہاں سے ایک مردہ مرغی اٹھا کر گھر لے گئیں،ان حاجی صاحب کو فکر ہوئی،دیکھتے رہے،ان کے گھر پہونچے،جھانک کر دیکھا،وہ اس کا پر وغیرہ نوچ رہی تھیں،توانہوں نے آواز دیاکہ مردار کھاناجائز نہیں ہے،یہ سادات گھرانے کی خواتین تھیں،جواب دیا ،ہم کو مسئلہ نہ بتاؤ،مسئلہ ہمارے گھر سے نکلاہے، ہم بھوک سے اس اضطراری حالت میں پہونچ گئے ہیں جس میں مردار کھانا جائز ہوجاتاہے،ان حاجی صاحب نے اس مرغی کو کھانے سے روکا، اور اپنا سارا خرچہ ان کو دیدیا،اور ساتھیوں سے کہا :آپ لوگ جائیں ،ہمارا خرچ ختم ہوگیاہے،ہم نہ جاسکیں گے،واپسی میں ہم کو یہاں سے لے لیجیے گا۔حجاج جب واپس ہوئے تو ان سے پوچھا ،آپ یہیں ٹھرے رہے،انہوں نے جواب دیا :ہاں!ان حاجیوں نے کہا ہم نے حج میں ہر جگہ آپ کو اپنے آگے آگے دیکھا،انہوں نے کہا ہم تو یہاں سے ہٹے ہی نہیں،اللہ تعالیٰ اپنے مخلصوں کو اسی طرح نوازتاہے،کاش ہم کو بھی اس کا کوئی حصہ حاصل ہوجاتا،حج کا فریضہ اس طرح اداکرتے جس طرح اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
محترم حجاج کرام!حج میں رمی اس لیے کی جاتی ہے کہ ان تینوں مقامات پر شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیلؑ کے ذبح کرنے سے اچھی اچھی تاویلات کے ذریعہ روکاتھا،مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے دھوکہ میں نہیں آئے تو ہم حج جیسی عبادت کو ابلیسی چکروں کے ساتھ اداکریں؟کتنے حاجی ایسے ہیں جو سودی کاروبار کی کمائی سے حج کرتے ہیں،حرام کمائی سے حج کرتے ہیں،ان کو شیطان سمجھاتاہے کہ جو چاہو کرو،حج کرلینا،سب معاف ہوجائے گا،شیطان نے اپنے راندۂ درگاہ ہونے کے وقت ہی کہہ دیاتھا کہ اللہ تعالیٰ ہم ان کو آگے سے ،پیچھے سے ، دائیں سے ، بائیں سے ،ہر طرف سے گمراہ کریں گے،مگر ہم اس پر غور نہیں کرتے،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یَابَنِیْ آدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا الشَّیْطَانَ، اِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘‘۔[سورہ یٰسٓ:۶۰] (اے آدم کی اولاد!ہم نے تم سے کہہ نہیں دیاتھاکہ شیطان کو نہ پوجنا،(اس کے دھوکہ میں نہ آنا)،وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے حجاج کو اخلاص عطافرمائے اور صحیح طریقہ سے حج کرائے۔
٭٭٭٭٭