خوش نصیب بندگانِ خدا

انسانیت کی صبح سعادت
دسمبر 12, 2017
انسانی زندگی کے دو پہلو
جنوری 15, 2018

خوش نصیب بندگانِ خدا

بدأ الاسلام غریباً وسیعود غریباً

اسلام ایک نامانوس آواز بن کر آیا تھا لیکن کیایہ حقیقت روزروشن کی طرح عیا ن نہیں کہ جب اسلام کے خلاف دولت، امارت وحکومت کی ساری طاقتیں متحد تھیں،جب اسلام محدود تھا،تنگ دستوں ،بیکسوں کمزوروں کی ایک چھوٹی سی تعداد میں اورجب اللہ کاجوکل کائنات کاخالق ہے ،نام زبان پرلانے کا انعام ملتاتھا،گالیوں ،ذلتوں اورایسی سزاؤںسے جن کو سن کردل کانپ جائیں۔

مگردنیانے دیکھاکہ چندہی سالوں میں دنیاکس طرح بدل گئی، قریش کے بڑے بڑے سردارکس طرح مٹی میں مل گئے ، ان کاساتھ دینے والے قبائل مٹ کے ختم ہوگئے ،بڑے بڑے ساہوکاراورمالداراس طرح غائب ہوئے کہ ان کے نام ونشان کاپتہ نہیں ۔
سیعود غریباًبعد میں پھراسلام اجنبی وناموس بن جائے گا،اس وقت پھراسلام نامانوس اور اجنبی بنتاجارہاہے اوردنیاکی ساری قوموں کی اس پریلغارہے ،اس طوفان بلاخیزمیں حب جاہ ومال رکھنے والے کتنے مسلمان ہیں جو’’یصبح الرجل مومناً ویمسی کافراً یمسی مومناًویصبح کافراً‘‘کی تصویربنتے جارہے ہیں ،ایک شخص صبح کومسلمان ہوگا،حالات سے متاثرہوکرشام کوکافرہوجائے گا،شام کومسلمان ہوگا صبح کافرہوجائے گا۔

مال کی محبت نفس وقلب کوان تمام آلودگیوں اورگندکیوں سے گدلااورمیلاکردیتی ہے جن کوحرص وطمع ،بخل و دنائت، خودغرضی ،حرام خوری ،فریب و دھوکا،بے غیرتی وبے حیائی کے نام سے پکاراجاتاہے،انسان کومال کی محبت اوردولت کی حرص میں حلال وحرام ،جائز وناجائزکی تمیزنہیں رہتی وہ اپنے نفع کی دھن میں احکام الٰہیہ سے غافل ہوجاتاہے ،ایسوں ہی کومخاطب کرکے قرآن کریم نے وعیدسناتے ہوئے فرمایا:’’اَ لْھٰکُمُ التَّکَاثُرُحَتّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘‘(دنیاکے مال کی )بہتات کی حرص نے تمہیں (اللہ وآخرت سے )غافل کیایہاں تک کہ تم قبرستان پہنچ جاتے ہو۔

د نیااس وقت مادہ پرستی کے جن حالات سے گذررہی ہے ان میں بہت سے دیندارتنکے کی طرح بہے چلے جارہے ہیں، یہ وہ زمانہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت غرباء اہل اسلام کوبشارت دی ہے فرمایا:زمانۂ فتنہ میں عبادت کرنا(یعنی احکامات شریعت پرعمل) ایساہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا حکومت کے خلاف بغاوت وفسادکے وقت جوفوجی تھوڑی سی جرأت وبہادری دکھاتے ہیں وہ بادشاہ کے دل میں بڑی قدرپیداکرلیتے ہیں وہ بادشاہ کے خواص میں شمارکیے جاتے ہیں،اگرماحول پرسکون ہوامن وامان کی راجداری ہوتواس وقت عمل وجدوجہدکی وہ قیمت نہیں ہوتی کام کرنے کاوقت وہی ہوتاہے جس میں فتنوں کادوردورہ ہوتاہے،جولوگ یہ چاہتے ہیں کہ (قیامت میں)صلحاء واتقیاء اورمقبولان خدامیں شمارہوں،وہ مرضیات خداکے سامنے اپنی تمام مرغوبات اورپسندکی چیزوں سے ہاتھ اٹھالیں، اور سنت ر سو ل کی ا تباع کے علاوہ تمام چیزوں کوچھوڑدیں کہ بگڑے ہوئے حالات اور ماحول میں دین پر جمنااوراستقامت دکھاناایسے ہی ہے جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنا، اوراپنے محبوب کے طریقہ پرنہ صرف جمنے بلکہ دوسروں کوبھی اس کی طرف بلانے اورجمانے کی فکروکوشش کرنا۔

ٹھنڈے پانی کی قدروقیمت اوراس کی غیرمعمولی طلب وجستجوٹھنڈے موسم میں نہیں ہوتی بلکہ شدت کی گرمی اورلوکے تھپڑوں کے وقت ہوتی ہے جس کواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح مانگاہے:’’اللّٰھم اجعل حبک أحب إلی من نفسی و من أھلی ومن مالی ومن الماء البارد ‘‘ (اے اللہ! تواپنی محبت ہماری جان ،اہل وعیال، مال اور(سخت پیاس کے وقت )ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ بنادے، حالات کی خرابی اورفتنہ وفسادی کی شکایات کوئی نئی بات نہیں ،گوشکلیں الگ الگ ہوں، لیکن شکایت ہرزمانے میں رہی ہے اور مصلحین وعلماء ربانیین نے انھیںحالات میں کام کیاہے اورکام کا اندازحالات کے اعتبار سے اپنایاہے، دعوت اسلامی کی پوری تاریخ اس کی شاہدعدل ہے، لہٰذا کارکنان اورخدمت گارانِ دین کوپوری ہمت وحوصلہ کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہناچاہیے ،پوری تاریخ اسلام میں اسلام کو خارجی داخلی دونوں فتنوں اورآزمائشوں سے گذرنا پڑاہے، اس وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات پیش آرہے ہیں، داخلی فتنے بھی ایسے ہیں کہ ہوش گم ہونے لگتے ہیں۔

لیکن مخلصین کو مایوسی کاشکار نہیں ہوناچاہیے، بارہاایساہواکہ تاریکیوں ہی سے شنی کی کرنیں پھوٹی ہیں اور:’’اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ‘‘(ہم نے ہی قرآن اتاراہے اور یقینا ہم خود اس کے نگبہان ہیں )کاجلوہ نظر آیا ہے ا ورصبح کی سپید ی ظاہر ہوئی ہے، خوش نصیب ہوں گے وہ بندگانِ خداجوجماعتی، گروہی اور طبقاتی حدبندیوں سے بلندہوکرمحض اللہ تعالیٰ کی رضاکی خاطر آوازۂ اسلام کوبلندکرنے کی بے لاگ کوششیں وکاوشیں کریں گے ؎

صدقِ احساس کی دولت مرے مولیٰ دیدے
غم امروز بھلادے ، غم فردا دیدے

شمس الحق ندوی