حج اور عفووکرم کی دولت سے مالامال حجاج

جانور کی قربانی کی اصل روح
اگست 12, 2018
محرم الحرام سے نئی ہجری سال کا آغاز
ستمبر 13, 2018

حج اور عفووکرم کی دولت سے مالامال حجاج

شمس الحق ندوی

حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ :اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ پرنظر ڈالی اورفرمایا’’لاالٰہ الااللّٰہ ‘‘توکتنا اچھاہے، تیری خوشبوکتنی اچھی ہے، توکس قدر محترم ہے، اورمومن تم سے بھی زیادہ محترم ہے، اللہ تعالیٰ نے تم کومحترم بنایاہے، اورمومن کے مال ،خون، عزت سب کومحترم بنایاہے، اس سے منع فرمایاہے کہ ہم مومن کے بارے میں براگمان رکھیں۔

مشکوٰۃ کی طویل روایت میں ہے کہ :حجۃ الوداع کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحرمیں صحابۂ کرامؓ سے فرمایا کہ: تمہاراخون ،تمہارامال، تمہاری عزت تم پرایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے آج کے دن، تمہارے اس شہرمیں،تمہارے اس مہینہ میں ،جلدہی تم اپنے رب کی بارگاہ میں حاضرہوگے ،اورتم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا، سن لو!ہمارے بعد غلط راہ پرنہ پڑ جاناکہ ایک دوسرے کوقتل کرو، کیاہم نے تم کوآگاہ نہیں کردیا،صحابہ کرامؓ نے جواب دیا:ہاں!پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے لوگ جن کوبعدمیں معلوم ہوا،براہ راست سننے والوں سے زیادہ یارکھتے ہیں۔[مشکوٰۃ]

اللہ تعالیٰ نے جن خوش نصیب حضرات کوحج کی خیروبرکات اوراس کے قابل رشک فضائل سے نوازا، انہیں اپنے اس شرف وسعادت اور گناہوں سے اس طرح پاک ہوجانے کی لاج رکھناکتنااہم وضروری ہے کہ جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیداہوئے ہیں۔

بعض اہل اللہ نے فرمایاکہ :حج کی قبولیت کاپتہ اس سے چلتاہے کہ حاجی کواس کے بعد نیکیوں کی توفیق ملے ،اس لیے حاجی کواس کا پورا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی بے گناہی پرکوئی داغ دھبہ نہ لگنے پائے اورلوگوں کی زبان سے یہ الفاظ نہ سنے جائیں کہ دیکھوحاجی ہوکرکیاکررہے ہیں، یہ توحاجیوں کی رسوائی کاسب بن رہے ہیں ،لوگوں کی غیبت ، عیب جوئی اورجھوٹ وبہتان لگانے میں وقت گذارتے ہیں ،سودی کاروبار کرنے سے بھی نہیں باز آتے۔

وہی حاجی جنہوں نے حجراسودکوبوسہ دیاہے، غلاف کعبہ پکڑکرروئے، گڑگڑائے ہیں، طواف کعبہ اورصفاومروہ کی سعی کی ہے، مزدلفہ ومنی میں عاشقانہ اداؤںکی تصویرپیش کی ہے ،شیطان کوکنکر یاںماری ہیں، اس جوش میں کہ گویاشیطان سامنے ہے ۔اب وطن پہنچ کراپنے کاروبار،کاموںاورپیشوںمیں لگ کرسب کچھ بھول جائیں اوروہی شیطان جس کو کنکریاں مار کر آئے ہیں، اب جدھر گھمائے گھوم جائیں ،یہ بالکل نہ بھولناچاہیے کہ حج میں گناہوں کی معافی اوررمی جمار سے شیطان نے جتنا اپناسرپیٹارویااورچلایاہے ،حج سے واپسی کے بعد حاجی کاپیچھا چھوڑدے گا،اس نے بنی آدم کوگمراہ کرنے کے لیے قیامت تک کی مہلت لی ہے، اوراللہ تعالیٰ نے اس کویہ کہہ کرمہلت دے دی ہے کہ جاؤ ان میں سے جوبھی تمہارے بہکاوے میں آئے گاہم اس کوبھی جہنم میں ڈالیں گے لیکن ہمارے خاص بندوں پر،ہماری طرف رجوع وانابت کرنے والوں پر تمہارابس نہیں چلے گا۔

اس لیے شیطان کے فریب سے بچنے کی برابرفکررکھنی چاہیے، کچھ نہیں توحج کی شہرت وریاکاری ہی کاجذبہ پیداکرکے حج کے سارے فوائد سے محروم کردے گا۔

اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے شیطان ملعون کے دھوکے سے ہماری حفاظت فرمائے ،اورحجاج کرام کی زندگی نے نہ صرف یہ کہ دوسروں کے لیے نمونہ بنائے بلکہ ان سے دعوت واصلاح کاکام لے ،اورحج وزیارت سے ان کے دلوں کو جو انواراورصفائی حاصل ہوئی ہے وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کوبھی اداکرنے کی قوت وطاقت بخشے ، اقرباپروری اور صلہ رحمی کی توفیق سے نوازے جس کے ختم ہوجانے سے اس وقت خود ہمارا مسلم معاشرہ کتنے فسادوبگاڑ بلکہ قتل وغارت گری میں مبتلا ہے، شروع میں عرض کیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبۃ اللہ پرنظر ڈال کر فرمایا:’لاالہ الااللّٰہ‘توکتنا اچھاہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، توکس قدرمحترم ہے اور مومن تم سے بھی زیادہ محترم ہے، اللہ تعالیٰ نے تم کومحترم بنایاہے اورمومن کے مال خون عزت سب کو محترم بنایاہے ، اوروںسے کیا کہیں ،ان حجاج کرام سے عرض کیا جاسکتا ہے کہ جب کعبہ کو دیکھ کراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے جس کاطواف کرکے حاجی آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو محترم بنایاہے لیکن مومن کے مال خون عزت سب کومحترم بنایاہے ۔

اب ایک حاجی کی زندگی کس صلح کل کے ساتھ گذرنی چاہیے، اس کے لکھنے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عمل کی توفیق دے،آمین۔

٭٭٭٭٭