جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

عید قرباں میں اخلاص نیت
اگست 10, 2021

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

سنہ ہجری تاریخ انسانی کاوہ حیرت انگیز موڑہے، جومکی زندگی کی تیرہ سالہ مدت میں ہمت وحوصلہ، صبرورضا، حلم وتدبر، حکمت وموعظت، اپنے اصول و اقدار پرمردانہ وار قائم رہنے اوراپنے منصب وفریضہ کی ادائیگی کے لیے پہاڑ کی طرح جمے رہنے اورعداوت ومخالفت کے جاں گداز وجگر سوز طوفانوں میںکشتی انسانیت کوساحل سے ہم کنار کرنے کے لیے جان کی بازی لگادینے کی ایسی جیتی جاگتی مثال ہے، جس کی پوری تاریخ انسانی میںکوئی مثال نہیںملتی؟

لیکن مکہ کی سنگلاخ زمین پر اس کاکوئی اثرنہ پڑا، بمشکل انگلیوں پرگنی جانے والی تعداد نے اس دعوت کوقبول کیا اورجوقبول کرتا وہ گویااپنے کوابتلاء و آزمائش کے لیے پیش کردیتا۔

غورفرمایئے کہ عرب ہی نہیں،پوری دنیا میںجنگل کاقانون جاری ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات مٹ چکی ہیں، جو بگڑے اوربپھرے ہوئے انسانوں کوراہ راست پرلانے اوران کواشرف المخلوقات ہونے کاسبق یاددلانے کے لیے وجود میںآئی تھیں، اگرکہیں کسی درجہ میں ان کاکچھ اثرباقی تھا تواتنا کہ جتنا برسات کی گھنگھور گھٹائوں کی اندھیری رات میںجگنو کی چمک۔

مفکراسلام حضرت مولانا سیدا بوالحسن علی حسنی ندویؒ نے اپنی کتاب’’ نبی رحمت‘‘ میںچھٹی صدی عیسوی کے عالم گیر فساد وبگاڑ،مذاہب کی اوہام پرستی اور روح سے خالی بلکہ ظن وتخمین پرقائم عقائد کابڑاتفصیلی جائزہ یوروپین مصنفین اور ہندوستانی فلاسفہ کی شہادتوں کے ساتھ آئینہ کی طرح پیش کردیاہے، آخر میں خلاصہ کے طورپر فرماتے ہیں :’’غرض بعثت محمدیؐ کے زمانہ میں پوری انسانیت تیزی کے ساتھ خود کشی کے راستہ پرگامزن تھی، انسان نہ صرف یہ کہ اپنے خالق و مالک کو بھول چکاتھا، بلکہ خود اپنے آپ کو اوراپنے مستقبل اورانجام کو فراموش کرچکاتھا ، اس کے اندر بھلائی اوربرائی اورزشت و خوب میںتمیز کرنے کی بھی صلاحیت باقی نہیںتھی، ایسامعلوم ہوتاتھا کہ انسانوں کے دل ودماغ کسی چیز میںکھوچکے ہیں، ان کودین اورآخرت کی طرف سراٹھاکردیکھنے کی بھی فرصت نہیں اور روح وقلب کی غذا، اخروی فلاح، انسانیت کی خدمت اوراصلاح حال کے لیے ان کے پاس ایک لمحہ خالی نہیں‘‘۔[نبی رحمت ،ص:۴۵]

اس گھٹاٹوپ اندھیرے میںجہاں ہاتھ کوہاتھ نہیںسجھائی دے رہاہو، قرآنی الفاظ میں’’ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَا أخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاھَا‘‘ [سورۂ نور:۴۰] ایک خداکوچھوڑ کرسینکڑوں خدائوں کاعقیدہ اوراوہام وخرافات نے ذہنوں کوشل اورمفلوج کررکھاہو، ظلم وجور، بے حیائی اورفحش کاری نے تمام اقدار اورانسانی حس وشعور کوروند ڈالا ہو، شیطنت کے اس شوروہنگامہ میںجہاں کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی ہو، اصلاح حال کی آواز لگانا، بھٹکے ہوئوں کوراہ راست کی طرف بلانے کی ہمت وجرأت بڑے دل گردہ کاکام تھا، بے شمارخدائوں کی پوجاپاٹ کرنے والوں کے بیچ علامہ سیدسلیمان ندویؒ کے الفاظ میں: ’’توحید کی آواز ایک بیگانہ آواز تھی، جومسافرانہ بے کسی کے عالم میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بلندہوئی، پورب ،پچھم ، دائیں، بائیں ہر طرف سے اس صدائے حق کواجنبی اور نامانوس سمجھاگیا، آوازدینے والے نے حسرت سے چاروں طرف دیکھا اورہرطرف اس کوبیگانگی، اجنبیت اورمسافرانہ بے کسی کامنظرنظرآیا‘‘۔

دنیاکاہرپڑھالکھا انسان جانتاہے، دوست دشمن سب کومعلوم ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مکمل تیرہ سال کس کس طرح گزرے ہیں، طائف کے مسافر پر کیا نہیںگزری ، شعب ابی طالب میںمحصور کردیے جانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں پرکیابیتی، اس طرح سے مکہ میں پورے تیرہ سال گزرجاتے ہیں اور اسلام اورداعی اسلام حسرت وبے کسی ہی کے عالم میں وقت گزارتے ہیں، اس پوری مدت میںبقول عباس محمود عقاد:

’’اسلام اس سست رفتاری کے ساتھ بڑھ رہاتھا جیسے غم کی گھڑیاں گزرتی ہیں اور جیسے کوئی جواں مرد عداوتوں اورمخالفتوں کے طوفانوں میںپہاڑ کی طرح جما رہتاہے، قدم بڑھاتاہے اوربڑھنے نہیںپاتا، تیرہ سال کی مدت میںجیسے تاریخ میںٹھہرائو پیداہوگیا، کوئی بڑی تبدیلی ہوتی ہی نہیں، جیسے تاریخ کادامن سمٹ سمٹاکررہ گیاہے، لیکن جب ہجرت ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہونچتے ہیں، تودنیا میںہلچل پیداہوجاتی ہے، ایسامعلوم ہوتاہے کہ ہجرت کے وقت آپ کے قدم تاریخ کے اس حساس حصہ پر پڑگئے، جس سے حرکت شروع ہوجاتی ہے اورتاریخ کاچکا تیزی سے گھومنے لگتاہے ، ہجرت میں آپ کے قدم زمین پرنشان چھوڑرہے تھے ، لیکن اس کے اثرات تاریخ پراثرڈال رہے تھے ، ہجرت کی مسافت تومکہ مدینہ کے درمیان تھی، لیکن اس کے اثرات مشرق و مغرب پرپڑرہے تھے‘‘۔

سیدالطائفہ علامہ سید سلیمان ندویؒ اس کی تصویر کشی اس طرح کرتے ہیں:’’رفتہ رفتہ اجنبیت دورہوئی، بیگانگی کافورہوئی، آواز کی کشش اورنوائے حق کی بانسری نے دلوں میںاثرکیا، کان والے سننے لگے، جوسننے لگے سردھننے لگے ، یہاں تک کہ وہ دن آیا کہ ساراعرب اس کیف سے معمور اوراس شراب سے مخمور ہوگیا اوراسلام کامسافراپنے گھر(مدینہ) پہونچ کر اپنے عزیزوں اوردوستوں میںٹھہرگیا۔

اب وہ قافلہ بن کرآگے چلا، عرب کے ریگستانوں سے نکل کر عراق کی نہروں اورشام کے گلستانوں میںپہونچا، پھرآگے بڑھا اور ایران کے مرغزاروں اورمصر کی وادیوں میںآکرٹھہرا، اس سے آگے بڑھا، توایک طرف خراسان وترکستان ہوکر ہندوستان کے پہاڑوں اورساحلوں پراس کاجلوہ نظرآیا اور دوسری طرف افریقہ کے صحرائوں کوطے کرکے اس کانوربحرظلمات کے کنارے چمکا‘‘۔

لیکن ۱۴۴۲ھ؁ سال کے اس پورے عرصہ میںاسلام کی تابناک شعاعوں کے پھیل جانے کے باوجود اس کے خلاف سازشوں اوراس کوصفحۂ ہستی سے مٹادینے کی کوششوں میںکوئی کمی نہیںآئی اورآتی بھی کیسے کہ انسانوں کے ازلی دشمن ابلیس کواللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے قیامت تک کے لیے مہلت دی ہے، لہٰذا جس طرح اس نے عہد نبوت میں ہجرت سے قبل مکہ کے ’’دارالندوہ‘‘ کی میٹنگ میںشیخ نجدی کے شکل میں سربراہان قریش کوآپؐ کے قتل کامشورہ دیاتھا اور ہجرت کے بعد بنوکنانہ کے سردار کی شکل میں اہل مکہ کو غزوۂ بدر میں لے آیاتھا اورایسی ہی کارگزاری اس نے غزوۂ احزاب کے موقع پربھی دکھائی تھی اورہرموقع پرناکام رہاتھا ، عہد نبوت کے بعد بھی اس کایہ کام جاری ہے اوراسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میںکبھی وہ چین سے نہیںبیٹھاہے، نئے نئے انداز میں اسلام دشمن چیلوں کومیدان میںلاتا اوراسلام کو نیست ونابود کردینے کی کوشش کرتارہاہے، اورکئی مرحلے ایسے آئے ہیں کہ معلوم ہوتاتھا کہ اسلام ابھر نہیںسکے گا، لیکن بارہاایسا ہوا کہ اسلام سے برسرپیکار قوموں نے خود کواسلام کے حوالہ کردیا اور :

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے

اس وقت اسلام اورمسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پرجوسازشیں کی جارہی ہیں، ان سے ایسامحسوس کیاجانے لگا جیسے اب اسلام کی بقا کے راستے بندہوجائیںگے اورمسلمان مایوسی کاشکار ہونے لگے ہیں، ان حالات میں ہجرت نبویؐ مسلمانوں کویہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام کو اس وقت نہ مٹایاجاسکا جب داعی تن تنہاتھا اوراپنے حلم وتدبر سے اسکواس مرتبہ پرپہونچایا کہ آسمانی اعلان ہوا:’’ اِذَا جَائَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ أفْوَاجاً فَسَبّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہُ کَانَ تَوَّاباً‘‘[سورہ نصر:۱-۳] توآج اہل ایمان کوحالات کی ناسازگی اوراعدائے اسلام کی ریشہ دوانیوں سے گھبرانا اورمایوس نہیںہوناچاہیے، بلکہ اپنے فریضہ دعوت کوانجام دینے میںپوری ہمت وحوصلہ کے ساتھ لگے رہناچاہیے، سمندر کاجھاگ اٹھتارہتاہے اورسوکھتارہتاہے، لیکن پانی زمین میں جذب ہوکر فائدہ پہونچاتارہتاہے، فتنے اٹھتے رہیںگے، کشتیٔ اسلام فتنوں کے بھنور سے نکلتی رہی ہے اورنکلتی رہے گی ، اقبال کے الفاظ میں:

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے

شمس الحق ندوی