تعمیر حیات کے 54 برس مکمل

اپنی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں
اکتوبر 28, 2017
سیرت رسول ﷺ کا اصل پیغام
دسمبر 2, 2017

تعمیر حیات کے 54 برس مکمل

خدا کا شکر ہے کہ ’تعمیرحیات‘پورے چون(54)برسوں سے اپنے قارئین کوزندگی کے آبِ حیات سے سیراب کررہا ہے، اور اب اس کا ۵۵واں سال شروع ہورہاہے،گذشتہ 54 برسوں میں وہ دینی،روحانی اور فکری سوغات کے ساتھ قوموں ، ملکوں،تہذیبوں کے حالات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے خطرات اور ان کے اثرات سے بھی باخبر کرتا رہا ہے۔
’تعمیرحیات‘نے حالات کے اتار چڑھاؤسے گھبرانے کے بجائے ہمت وحوصلہ اور خود اعتمادی پیدا کرنے والے مضامین شائع کرنے کا اہتمام رکھا ہے۔ ’تعمیر حیات‘خلوص ،قربانی اور ایثارو خدمت کا جذبہ پیدا کرنے والے مضامین سے بھی اپنے قارئین میں صحیح دینی بیداری پیداکرنے کی فکرو کوشش کرتا رہاہے،حالات کے مقابلہ کے لیے جذباتی اور جوش وخروش کا انداز اپنانے کے بجائے حکیمانہ اور باوقارطریقہ اپنانے کی دعوت دیتا رہاہے،اس لیے کہ قوم وملت کی فلاح وکامیابی صرف جذبات ،جوش وخروش اور ہنگاموں سے نہیں ہوتی،بلکہ حکیمانہ اور مدبرانہ طریقۂ کار کے اپنانے سے ہوتی ہے،جس کی بہترین مثال حضرت مجدد الف ثانی کا طریقۂ دعوت ہے،اگر وہ یہ حکیمانہ انداز چھوڑکرجوش جذبہ کا طریقہ اپناتے،اور ’’کلمۃ حق عند سلطان جائر‘‘کے جوش میں حکومت وقت سے ٹکرائے ہوتے تو چند رفقاء کی شہادت کے سوا کچھ اور ہاتھ نہ آتا،اور ایک دہریہ حکومت کے رخ کوموڑنے کے لیے انہوں نے جو صبر آزما طریقہ اپنایا،اور اس کے نتیجہ میں ہر آنے والا بادشاہ بہتر سے بہتر رخ کی طرف چلا ،پھر اورنگ زیبؒ جیسے مثالی حکمراں نے دین اسلام کی حفاظت اور نشرواشاعت کا جو کارنامہ انجام دیا،اور خلفائے راشدین کی یاد تازہ کی،یہ نہ ہوتا۔
اسی طرح ’تعمیرحیات‘جب کمزوریوں کی نشان دہی کرتاہے تو تنقیدوتبصرہ میں جارحانہ انداز نہیں اپناتاکہ جس کے رد عمل کے نتیجہ میں تعمیر کے بجائے تخریب کا ماحول بنے،شاعر اسلام علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے ایک خاص ماحول میں مسلمانوں کواپنے مقام بلند پرقائم رہنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاتھا ؎
تیری بے علمی نے رکھ لی ہے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
اپنی خودی پہچان ، او غافل افغان
اقبال نے اس سے علماء حق کی تحقیر نہیں کی ہے،بلکہ ان دین فروشوں سے آگاہ کیاہے،جو دین کا لبادہ اوڑھ کر دنیا کماتے ہیں،جس کو حدیث شریف میں علماء سوء کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاگیاہے:’’یبیع دینہ بعرض من الدنیا‘‘دنیا کے تھوڑے فائدہ کے لیے دین کو بیچ دیتاہے۔
’تعمیرحیات‘اپنے خاص انداز میں اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتارہاہے کہ تاویلات کے ذریعہ اہل علم کا طبقہ دنیا کی محبت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچائے۔’تعمیرحیات‘ اپنے قارئین کا دینی ذہن بنانے کے سلسلہ میں ان کی علمی سطح نیز عقل وفہم کا لحاظ رکھتاہے،جو ندوۃ العلماء کے اس مسلک کا عکس ہے ،جو اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول پر رکھاہے:’’کلّموا الناس علیٰ قدر عقولھم أتریدون أن یکذّب اللّٰہ ورسولہ‘‘ یعنی لوگوں سے ان کی عقلوں کا خیال رکھتے ہوئے گفتگو کرو،کیا تم چاہتے ہوکہ خداورسول کو جھٹلایاجائے۔
خداکاشکر ہے کہ ’تعمیرحیات‘کے تعمیری انداز سے قارئین کو فائدہ پہنچا،اس کے بہت سے مضامین اور اداریے ہندوپاک کے اخبارات ورسائل کی زینت بنے،اس سب کے باوجود ’تعمیرحیات‘ کے کارکنان بہر حال انسان ہیں،اس لیے خطاونسیان کا پیش آنا،چوک ہوجانا،بعید از قیاس نہیں۔
’تعمیرحیات‘ اپنے قارئین میں یہ احساس بھی پوری طاقت کے ساتھ پیدا کرنے کی کوشش کرتاہے کہ مسلمانوں کی قومیت دوسری قوموں کی طرح کسی خاص خاندان اور برادری یامحض مذہبی لیبل کی بنیاد پر نہیں ہے،بلکہ اس کی قومیت کی حقیقت ان سب قومیتوں سے کہیں بلندوبرترہے،وہ یہ کہ مسلمان وہ جماعت ہے جو اللہ کی طرف سے ایک خاص پیغام لے کر دنیا میں آئی ہے،اس پیغام کو قائم رکھنا اور اس کو پھیلانااور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا،اس کی زندگی کا تنہا فریضہ ہے،اس پیغام کے ماننے والوں کی ایک امتیازی شان رکھنے والی برادری ہے،اس حقیقت کے ظاہر ہونے کے بعد مسلمان قوم کا سب سے بڑا فرض اس پیغام الٰہی کی معرفت ،اس کی بجا آوری،اس کی تعلیم،اس کی دعوت اور اس کی اشاعت ہے،نہ کہ محض نام کا مسلمان ہونا۔
’تعمیرحیات‘ نے اپنے قارئین میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ دشمن سے زیادہ گناہوں سے ڈراجائے کہ مسلمانوں کی مدد اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ فرماتاہے،اگر مسلمان اور اس کے دشمن گناہ میں برابر ہوئے تو دشمنوں کو ان پر غلبہ حاصل ہوگا،اس لیے کہ جب وسائل کا وسائل سے ٹکراؤ ہوگا تو جس کے وسائل زیادہ ہوں گے،وہ غالب آئے گا،اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کمانڈر کو یہی ہدایت کی تھی کہ تم دشمن سے زیادہ گناہوں سے ڈرنا کہ دشمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد اسی بناپر کی جاتی ہے۔
اس دنیائے فانی میں تو اللہ تعالیٰ اپنے باغیوں کو بھی کھلاتا پلاتا اور عروج وترقی کی بلندی پر پہونچاتاہے،اس لیے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی قیمت نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’وَلَوْلَا أَن یَکُونَ النَّاسُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَن یَکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوتِہِمْ سُقُفاً مِّن فَضَّۃٍ وَمَعَارِجَ عَلَیْْہَا یَظْہَرُونَ، وَلِبُیُوتِہِمْ أَبْوَاباً وَّسُرُراً عَلَیْْہَا یَتَّکِئُوْنَوَ زُخْرُفاً‘‘[سورہ زخرف:۳۴،۳۵](اگریہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں،ہم ان کے مکانوں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے،ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگاتے تھے،اور (خوب) تجمل وآرائش بھی کرتے )۔
اس لیے کسی صاحب ایمان کو غیروں کی ترقی سے دھوکہ نہ کھاناچاہیے،بلکہ اپنے دین وشریعت پر ہرحال میں قائم رہنا چاہیے۔
شمس الحق ندوی
٭٭٭٭٭