ایمان کا تقاضا

مایوسی نہیں ، اپنے مقام کی شناخت اور خدا کی ذات پر اعتماد
ستمبر 25, 2017
اپنی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں
اکتوبر 28, 2017

ایمان کا تقاضا

ایمان کا تقاضا
شمس الحق ندوی
ہرمسلمان کایہ ایمان وعقیدہ ہے کہ اس کائنات کی خالق ومالک اوراس کوچلانے والی بس ایک ہی ذات ہے ،وہ کسی کی محتاج نہیں، پوری کائنات پر اسی کاحکم چلتاہے، وہ ان میں سے کسی کامحتاج نہیں، سب کے سب اسی کے محتاج ہیں، وہ ہر چیز کوجانتاہے اورہرہرعمل وحرکت کی پوری خبررکھتاہے، کسی آن اورکسی لمحہ بھی وہ ان سے غافل وبے خبرنہیں ہوتا۔
ایسے ہی مسلمان یہ ایمان ویقین رکھتاہے کہ ایک دن ایسابھی آکے رہے گاجب یہ پوراعالم مٹادیاجائے گا،اورہرشخص کواس کے اچھے یابرے عمل کابدلہ دیاجاے گا،وہ پورایقین رکھتے ہیں کہ قرآن کریم خداکی سچی کتاب ہے، اس میں ذرا بھی شک نہیں ’’ذَالِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیْہِ ‘‘ اس کتاب کولانے والے محمدعربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداکے سچے اور آخری رسول ہیں، انھوں نے جوخبردی اورجوکچھ بتایا،سب سچ ہے، اس کے خلاف جوکچھ بھی کہا یابتایا جائے، سراسر جھوٹ اورغلط ہے، ایک عام اوربے پڑھے لکھے مسلمان کابھی یہی ایمان عقیدہ ہوتاہے،اور وہ اپنے غلط عمل پر خدا کی پکڑ سے ڈرتارہتاہے،غلطی کر کے پچھتاتا اورشرماتاہے ،اپنے اس ایمان و عقیدہ کے سامنے وہ اپنی قوم وملت کے مفاد کے خلاف بڑی سے بڑی پیش کش کوٹھکرادیتاہے ،اس لیے کہ اسے معلوم ہے کہ اگرہم نے اس وقت اپنے دین اورقوم سے غداری کرکے کوئی دنیاوی فائدہ اٹھالیا تو آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی میں اس کی سخت سزا ملے گی او رتلافی کی ساری راہیں بندہوچکی ہوں گی، جو مسلمان نفس وشیطا ن کا شکار ہوکر قوم وملت کے خلاف کوئی کام کرلیتاہے ،وہ عملی منافق ہوتاہے، آخرت میں اس کو اس کی جوسزاملے گی، وہ توملے گی ہی، اس دنیامیں بھی وہ بڑی ذلت وحقارت کی نظرسے دیکھاجائے گا۔
ہمیں ان سطروں کے لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسابھی ہے جوموجودہ مادہ پرستانہ ذہنیت سے متاثر ہوکر معمولی سے فائدہ کے لیے خواہ مال ودولت کی شکل میں ہو یاعہدہ ومنصب کی صورت میں ہو، اس پردین وملت کے مفاد کوقربان کردیتاہے ،تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے بھی اپنے معمولی سے فائدہ کے لیے قوم و ملت کونظراندازکیا،وہ ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں کہ امت مسلمہ مختلف فرقوں میں بٹ گئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعامانگی کہ اے اللہ ! ہماری امت میں فرقے نہ پیداہوں، آپؐ کی یہ دعا قبول نہیں ہوئی ،اورامت بہت سے فرقوں میں بٹ گئی جس کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی کومعلوم ہے، بظاہر ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرقوں سے ہٹ کر مسلمان قرآن وطریقۂ رسولؐ کواپناآئیڈیل اورنمونہ بنائیں۔
اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پوری اسلامی تاریخ میں ایک دن بھی ایسا نہیں گذراکہ امت عمومی طورپرکسی گمراہی کاشکار ہوگئی، حدیث شریف میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’لاتجتمع أمتی علی ضلالۃ ‘‘ہماری امت کسی گمراہی پرنہیں متفق ہوسکتی۔
دین اسلام اس سے پوری طرح محفوظ ہے اورقیامت تک محفوظ رہے گااور’’اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّالَہُ لَحَافِظُوْنَ‘‘ کاخدائی اعلان اپناجلوہ دکھاتا رہے گا،اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فرقوں کی اس کثرت میں کدھرجائیں، اپنی نفس پرستی اورحرص وہوس کاشکار ہوکراگرکوئی غلط راہ پرجائے توکل قیامت کے دن کوئی عذرنہیں پیش کرسکتا۔
اسی لیے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفس کے شر سے پناہ مانگی ہے:’’اللّٰہم إنی أعوذبک من شرنفسی‘‘،اس لیے کہ نفس کاشرطرح طرح کی تاویلات کادروازہ کھول دیتاہے، اور یہ تاویلات ، ضلالت وگمراہی کی راہ پر اس طرح ڈال دیتی ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل ہوتاہے،اس لیے دین اور اپنی نفسانیت کا برابر جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ ع
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیں تصویریں
ا س مناسبت سے ہم امام غزالیؒ کا’’نفس سے خطاب ‘‘نقل کردینا کافی سمجھتے ہیں:
’’اے نفس!انصاف کر،اگرایک یہودی تجھ سے کہہ دیتاہے کہ فلاں لذیذکھاناتیرے لیے مضر ہے توتوصبرکرتاہے،اور اسے چھوڑ دیتاہے،اور اس کی خاطرتکلیف اٹھاتاہے ،کیاانبیاء کاقول جس کو معجزات کی تائیدحاصل ہوتی ہے اور فرمان الٰہی اور صحف سماوی کامضمون تیرے لیے اس سے بھی کم اثر رکھتاہے جتنا کہ اس یہودی کاایک قیاس و اندازہ، عقل کی کمی اورعلم کی کمی اورکوتاہی کے ساتھ، تجھ پر تعجب ہے اگرکوئی بچہ کہتاہے کہ تیرے کپڑے میں بچھوہے، تو بغیر دلیل طلب کیے اور سوچے سمجھے اپنے کپڑے اتارپھنکتاہے ، کیا انبیاء، علماء اوراولیاء وحکماء کی متفقہ بات تیرے نزدیک اس بچہ کی بات سے بھی کم وقعت رکھتی ہے؟جہنم کی آگ ، اس کی بیڑیاں، اس کے گرز، اس کا عذاب، اس کا زقوم اوراس کے آنکڑے، اس کے سانپ، بچھو، زہریلی چیزیں تیرے لیے ایک بچھوسے بھی کم تکلیف دہ ہیں جس بچھو کی تکلیف زیادہ سے زیادہ ایک دن یااس سے کم رہتی ہے، یہ عقلمندوں کاشیوہ نہیں، اگرکہیں بہائم کوتیری حالت کاعلم ہوجائے توہ تجھ پرہنسیں اور تیری نادانی کامذاق اڑائیں، پس اگراے نفس! تجھ کویہ سب چیزیں معلوم ہیں، او ر ان پر تیرا ایمان ہے، توکیابات ہے کہ عمل میں تساہل اور ٹال مٹول سے کام لیتاہے، حالانکہ موت کمین گاہ میں منتظر ہے کہ وہ بغیر مہلت کے تجھے اچک لے، اللّٰھم احفظنا من شرور أنفسنا‘‘۔