انسانی زندگی کے دو پہلو

خوش نصیب بندگانِ خدا
جنوری 7, 2018

انسانی زندگی کے دو پہلو

ہم غورکرتے ہیں تویہ ناقابل انکار اورروزروشن کی طرح عیاں حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانی زندگی کے دوپہلو ہیں ؛ ایک پہلو توپیدائشی اور فطری ہے جوہر انسان میں یکساں پایاجاتاہے اورازخوداس پہلو کواپنانے کاداعیہ پیداہوتاہے ،کسی تحریک وترغیب اوردعوت وتشویق کی قطعاًکوئی ضرورت نہیں پیش آتی ،انسان اس کوازخود اپناتااوراس کے تقاضے کوپوراکرتاہے،بالکل اسی طرح جس طرح پانی ڈھال کی طرف بہتاہے یاپوداوپر کی طرف بڑھتاہے ،یہ پہلوہے انسان کی طبعی ضرورت وبشری تقاضوں کاجیسے کھانے پینے اورزندگی گزرانے کے دوسرے اسباب ووسائل کے حصول کافکرمندہونا اوراس کے لیے بلاکسی دعوت وترغیب کے کوشش کرنا،زندگی کایہ پہلو مومن وکافرسب کے لئے یکساں ہے،اس میں کفروا یمان کا کوئی فرق وامتیاز نہیں ،سارے طبعی تقاضے مومن وکافرسب میں یکساں پائے جاتے ہیں ،یہ وہ پہلو ہے کہ اس کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے ،لوگوں کو کمانے اورحصول رزق کے لیے دیگر اسباب معاش کواپنانے کے لیے کوئی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں ،اس کااحساس وجذبہ انسان میں پیدائشی پایا جاتاہے،ہرانسان ازخود اس پرعمل کرتاہے،اوراس کی طرف اس کاذہن چلتاہے اورسب سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتاہے۔
دوسراپہلو ایمان کاپہلوہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اوررسولوں کوبھیجتااورانسانوں کی رہنمائی کاکام لیتاہے جس میں کسی شک اورغلطی کا امکان نہیں ہوتاخواہ انسانی عقل اس کوقبول کرے یانہ کرے یہ خاص ہے ان بندوں کے ساتھ جوان تعلیمات پریقین رکھتے ہیں اس پہلو کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق سے احکام لے اوراس پر عمل کرے ، انسان حلال وحرام میں تمیز کرے،معاش کے لیے حصول کاطریقہ کیاہو؟کن طریقوں سے جائزودرست ہے ؟اورکن طریقوں کواپنانے سے خالق کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے ؟انسان کی زندگی کامقصداصلی کیاہے؟ایک انسان کا دوسرے انسان پرکیاحق ہے ؟وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیابرتاؤکرے،لین دین ،کاروبارگھراوربازارمیں کس طرح رہے ،باپ ہے تو اولاد کی تعلیم وتربیت کی اس پرکیاذمہ داریاں ہیں ؟اولادہے توماں باپ کے اس پرکیاحقوق ہیں ؟ شوہرہے توبیوی کیساتھ کیاسلوک کرے ،بیوی ہے تو شوہر کے حقوق کاکس طرح پاس ولحاظ کرے،حاکم ہے تومحکوم پرکیسی شفقت وعنایت کامعاملہ کرے ،محکوم ہے توآقاکے حکموں کی بجاآوری میں کیسا مستعدرہے ؟ غرض یہ کہ پورے نظام معاشرت میں اس کاکیاکردارہو،زندگی کے ہرہر عمل میں اپنے خالق ومالک کی رضاجوئی وخوشنودی کا کیسا خیال رکھے،انسانی حقوق کامعاملہ ہوتوجواپنے لیے پسندکرے وہی دوسروں کے لیے بھی ’’لایومن أحدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ‘‘دوسروں کے دکھ درد میں کام آئے ،محتاجوں اورضرورت مندوں کی خبرگیری کرے،یہ وہ انسانی قدریں ہیں جن کی دعوت وتبلیغ کی ضرورت ہوتی ہے ،اوراسی میں انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کاراز پوشیدہ ہے اس کی ذات سے اورقول وعمل سے کسی کوتکلیف نہ پہونچے’’المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ‘‘انبیاء کرام اس دوسرے ہی پہلو کاشعوربیدارکرنے اورجگ ریت میں بدمست وکھوئے ہوئے انسانوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آتے ہیں ،کہ جب جب انسان زندگی کے پہلے رخ پرلگ کرایمان کے پہلو سے غافل ہواہے،دنیا میں بڑافسادوبگاڑپیدا ہوا ہے اوراس کی پاداش میں بڑی بڑی قومیں اورصاحب سطوت وجبروت باشاہتیں حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹادی گئی ہیں،قرآن کریم نے ایسے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں کہ سجاسجایاملک چھوڑ کروہ آن کی آن میں غائب ہوگئے کسی وصیت وہدایت کابھی موقع نہ ملا،فرعون ونمر ود کا واقعہ سب جانتے ہیں ،قوم عادوثمودجیسی زبردست قوموں کی بربادی کاحال کسے نہیں معلوم کہ منٹومیں کھجورکے تنوں کی طرح ڈھیرتھے:’’کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُنَخْلٍ خَاوِیَۃٍ‘‘دوسرے پہلوکی طرف توجہ دینا اورانسانوں میں اس کاشعورپیداکرنااب یہ امت مسلمہ کے ذمہ ہے کہ سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد یہی امت دعوت ہے ،اگر یہ امت اپنے دعوتی کام کوچھوڑکردوسری قوموں کے ساتھ مادیت کی ریس میں شامل ہوجاتی ہے تونہ صرف اس کا اپنا وجودوتشخص ختم ہوجائے گابلکہ دنیا نہایت ہیبت ناک حالات سے دوچار ہوگی ، فکر و تشویش کی بات یہ نہیں کہ دنیا میں مادیت کاغلبہ بڑھ گیاہے اور اس کے نتیجہ میں اخلاقی انارکی اورافراتفری کاعالم بپاہے،بلکہ فکروتشویش کی بات یہ ہے کہ جوامت اس عالم کی محاسب ونگراں تھی اس کی بھی ایک بڑی تعداداپناکام چھوڑ کرمادیت کے سیلاب میں بہی چلی جارہی ہے ،غزوئہ بدرکے موقع پرانتہائی اضطراب کے عالم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ’’اللّٰھم إن تھلک ھذہ العصا بۃ لن تُعبد‘‘(اے خداگرتونے اس چھوٹی سی جماعت کوہلاک کردیاتوکبھی تیری عبادت نہ ہوگی)اس بات کا صاف اعلان ہیں کہ اس امت کا وجود قافلۂ انسانیت کی رہبری ورہنمائی کے لیے ہوا۔شورہے کہ مسلمان سار ے عالم میں مظلوم ومقہورہیں ، مسلمان قوم اس ظلم وقہر سے نہ مٹی ہے نہ مٹ سکتی ہے ، اس کی بقاء وفنا کاانحصا ر اس کے اپنے کیریکٹر اورتشخص وامتیاز پرہے ،اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس قوم کاسواداعظم اپنی اصل ذمہ داری یعنی زندگی کے ایمانی پہلو کے تقاضوں کوچھوڑ کردوسری قوموں کے ساتھ زندگی کے پہلے رخ پرچل پڑاہے ، خصوصاًاس کے لیڈراورسربراہ بری طرح اس کے پیچھے دوڑرہے ہیں اورہوش وخرداس حدتک کھوچکے ہیں کہ کچھ سننے سنانے کے لیے تیار نہیں ،وہ ہرسوداکرنے کے لیے تیارہیں ان کو عہدہ اورمنصب ملناچاہیے،اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دین مذہب توبڑی چیزہے ایک عام انسانی کرداراور رکھ رکھاؤجس کاخیال تمام سنجیدہ و باوقارلوگ خاندانی وبرادری ہی کے طورپرسہی رکھتے تھے اب صورت حال اتنی بگڑگئی ہے کہ جس طرح نیلام کی منڈی میں بولی بولی جاتی ہے ۔
اب تھوڑے سے فائدے یاعہدے اورمنصب کے لیے پارٹیاں بدلی جارہی ہیںخود اپنے مقررکیے ہوئے اصولوں اورپارٹی کے دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیںزندگی بھرکے کردارپر،زندگی بھرکی تاریخ پرپانی پھیراجارہاہے ،ایک کیمپ سے نکل کردوسرے کیمپ کی طرف چھلانگ لگائی جارہی ہے ، جن سے ساری عمردوستی رہی ان سے دوستی ختم کرکے دشمنی کی جارہی ہے ۔جن سے ساری عمردشمنی رہی جن کوساری عمربراکہتے رہے ان کو اچھا کہا جارہا ہے جن کوپاؤں تلے روندنے اورمسلنے کے لیے تیار تھے،ان کوگلے لگایاجارہاہے، اقتدارکی ہوس جس کے لیے فرعون قرآن میں معیاری انسان کے طورپرپیش کیاگیاہے ، دولت کی ہوس جس کے لیے قارون کو معیاری انسان کے طورپرپیش کیاگیا ہے ، امارت کاشوق جس کے لیے ہامان معیاری انسان کے طورپرپیش کیاگیاہے،یہ وہ تین جیتی جاگتی تصویریں ہیں ،فرعون، ہامان اورقارون ،جس کاسلسلہ ختم نہیں ہواہے ،موجودہ ماحول میں کتنے لوگ ہیں جن کے اندرفرعون بیٹھا ہوا ہے فرق یہ ہے کہ فرعون کوطاقت حاصل ہوگئی تھی ان کونہیں حاصل ،جس کوذیل کے شعرمیں اس طرح اداکیاگیا ؎
نفس ما را کمتر از فرعون نیست
لیکن او را عون ما را عون نیست
یہ وہ حقائق ہیں جن کاانکارنہیں کیاجاسکتا،اس بگڑی ہوئی صورت کواگرکوئی چیزدرست کرسکتی ہے تویہ انبیاء کرام کی وہ تعلیمات ہیں جن کوخالق نے زندگی کے دوسرے پہلوکودرست کرنے کے لیے اتاراہے، اب وہ طبقہ جس کوایمان کاکچھ بھی حصہ حاصل ہے وہ سوچے اورغورکرے کہ کس طرف جا رہا ہے؟ فرعون ،ہامان ،اورقارون کی طرف یاانبیاء کرام کی تعلیمات کی طرف ۔

شمس الحق ندوی
٭٭٭٭٭