انسانیت دوست انسانوں کی ضرورت

ماہِ شعبان کی مبارک گھڑیاں
اپریل 25, 2017

انسانیت دوست انسانوں کی ضرورت

شمس الحق ندوی
ہماری اس دنیا کی تاریخ بہت پرانی بتائی جاتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ قیاس وگمان پر قائم ہے، اس کو مؤرخین نے اپنی محدود ذہنی، فکری اور علمی صلاحیت وقوتِ ادارک کی بنیاد پر بیان کیا ہے، لیکن تاریخ کا ایک ایسا حصہ بھی ہے جس کی مدت گو اتنی طویل نہیں جتنی لوگوں نے اپنے قیاس وگمان سے بیان کی ہے، پھر بھی وہ دسیوں ہزار سال پر محیط ہے، جو سینہ بہ سینہ بھی منقول ہوئی ہے اور اس کا قوموں میں چرچا بھی رہا ہے، اس تاریخ کی تصدیق اس کتاب ربانی سے بھی ہوتی ہے، جو دنیا کی ساری کتابوں میں حتیٰ کہ آسمانی کتابوں میں بھی سب سے زیادہ محفوظ بلکہ جیوں کی تیوں موجود ہے، پورے ۱۴ سو ۳۷ سال گزرجانے کے باوجود کسی ادنیٰ کمی بیشی کے بغیر موجود ہے، اس کا دعویٰ اور اعتراف صرف اس کتاب پر ایمان رکھنے اور مسلمان کہلانے والے لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ بہت سے چوٹی کے وہ اہل علم بھی اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں جو اسلام کے دائرہ میں داخل نہیں مگر علم وتحقیق کے میدان میں بڑی شہرت کے مالک ہیں۔
قرآن کریم نے درس وعبرت کے لیے جن قوموں کے حالات کو بہت مختصر مگر حقیقت حال کو آئینہ کی طرح سے سامنے رکھ دیا ہے اور اس کو بیان کیا ہے، مؤرخین اور ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اور علمی دستاویزوں سے بھی تاریخ کے اس حصہ کی تصدیق ہوتی ہے، ایسی کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ہم جب اس قابل یقین تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو قوموں کے عروج وزوال، انسانوں کا خود اپنے ہی ہم جنسوں کے ساتھ ظلم وزیادتی، درندگی اور قتل وغارت گری کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے کہ عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے کہ کیا انسان اس درجہ کو پہونچ سکتا ہے کہ درندوں کو بھی شرم آئے۔
تاریخ کے ان تاریک زمانوں میں ایسے انسان بھی برابر پائے جاتے رہے ہیں جنھوں نے انسانوں کو انسانیت کا سبق پڑھانے کی پوری جد وجہد کی ہے بلکہ اس کوشش میں بڑی دشواریوں کا انھیں سامنا کرنا پڑا ہے، مگر اپنے خالق کے سامنے یہی لوگ مقبول وسرخرو شمار ہوئے ہیں، اس حقیقت کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے:
’’وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلاَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بَِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ‘‘ [سورۃ العصر] (قسم ہے عصر کی، بیشک انسان خسارہ میں ہے مگر جو لوگ کہ ایمان لائے اور کیے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی)۔
اس آیت میں بہت صراحت کے ساتھ کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ اے غافل انسانو! اے ظالمو اور جابرو! اے اپنے خالق ومالک کو بھلا کر اس کے حکموں اور منشا کے خلاف زندگی گزارنے والو! تم تاریخ کی شہادت پر یقین لاؤ، تاریخ انسانی کو دیکھو اور سوچو کہ کس قسم کے لوگ کامیاب ہوئے ہیں اور کون سے لوگ ناکام ہوئے تیں، تاریخ انسانی کا سفر اسی بے رارہ روی کے ساتھ جاری تھا کہ انسانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے ایک آخری آواز لگانے والے نے آواز لگائی، جس کی آواز نہ زمانہ کے ساتھ محدود تھی، نہ کسی علاقہ وملک وخطہ کے لیے تھی، اس آواز لگانے والے کے ساتھ جاہ و منصب کے متوالوں اور خواہشات نفسانی کے غلاموں نے وہی سب کچھ روا رکھا جو اس سے قبل اس قسم کے انسانیت دوست انسانوں کے ساتھ روا رکھا گیا تھا بلکہ اس سے بڑھ کر، مگر چونکہ وہ سب کے لیے آیا تھا اور ہمیشہ کے لیے آیا تھا، اس لیے تمام طوفانوں اور جھکڑوں کے باوجود اس کی لائی ہوئی روشنی چمکی اور ایسی چمکی کہ آج تک اس پر کوئی داغ دھبہ نہیں پڑنے پایا، یہ وہی شخص ہے جس نے دین ابراہیمی کی دعوت دی، جس نے دین حنیفی کی صدا لگائی، جس کی زبان سے صاف صاف کہلوایا گیا:
’’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ، ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ہٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ‘‘(دین تمارے باپ ابراہیم کا، اسی نے نام رکھا تمہارا مسلمان پہلے سے اور اس قرآن میں، تاکہ رسول ہو بتانے والا تم پر، اور تم ہو بتانے والے لوگوں پر)۔
اس آنے والے نے انسانوں کو وہ دستورِ حیات عطا کیا جس میں انسانوں کی فلاح وبہبود، سکون وچین ،پیار ومحبت، حیا وشرم، رحم وکرم کا راز پوشیدہ ہے۔
اس نے عورتوں کو عزت، غلاموں کو آزادی اور غریبوں کو بشارت دی اور سب کے لیے ایک ایمان اور عمل صالح کو ہر قسم کی ترقیوں اور سعادتوں کا زینہ بتایا، اور بتایا کہ انسانی سعادت کی شاہراہ غاروں، خلوتوں اور پہاڑوں سے ہوکر نہیں گزری ہے، بلکہ شہروں، بازاروں، مجمعوں اور انسانی بھیڑبھاڑ کے اندر سے گزری ہے، حق کی نصرت انسانوں کی بھلائی، یتیموں کی سرپرستی، غریبوں کی امداد، گرتوں کی دستگیری، مظلوموں کی فریاد رسی اور غلاموں کی آزادی ہی نیکیوں کی جڑیں ہیں، اور اس راہ میں ہر قسم کی جد وجہد، زحمت کشی، محنت اور ایثار وقربانی اصلی نفس کشی وریاضت ہے۔
اس نے اپنے ماننے والوں کو خالق کائنات کے ایک آستانۂ قدس کے سوا دنیاوی قوت کے ہر آستانہ سے بے نیاز کردیا، خدائے قادر کی قدرت کے سوا ہر قدرت سے وہ بے نیاز اور ہر قوت سے وہ بے پرواہ ہوگئے، انھوں نے اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کے سانچہ میں ڈھال کر، ظالموں اور جابروں کے ہاتھ پکڑ لیے وہ یہ اس لیے کر سکے کہ انھوں نے دنیا کے سارے جھمیلوں کے ساتھ ہر رشتہ محبت کو توڑ کر صرف خدا سے اپنا رشتہ جوڑا تھا، ان کے ہر عمل کی غایت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی تھی، تو اللہ تعالیٰ بھی ان سے خوش ہوا اور اپنی خوشنودی کا ہر خزانہ ان کے لیے کھول دیا، قرآن مجید نے اللہ والوں کی جماعت پیدا کی جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کرتی اور چھوڑتی تھی، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے لیتی اور دیتی تھی اور اسی کے لیے جیتی اور مرتی تھی۔
چنانچہ تاریخ نے اس قسم کے لوگوں کے دور کو بھی ریکارڈ کیا ہے کہ جب قرآنی تعلیمات پر عمل ہوا اور اس کا چلن رہا تو دنیائے انسانیت کو کیسا سکون وچین نصیب ہوا، انھوں نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے انسانیت کی فلاح وبہبود کا وہ نقش چھوڑا جو اب بھی انسانیت کی فلاح وبہبودی کی راہ دکھاتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب اس ربانی ہدایت ومحمدیؐ تعلیمات کو ماننے والوں نے بھی جاہ ومنصب، ہوا وہوس، عیش وطرب کے نشے میں ربانی تعلیمات کو بھلایا تو ان میں سے بھی ایسے لوگ تاریخ کے پردے پر آئے، جنھوں نے ظلم وجور کا بازار گرم کیا جیسا کہ ہم اس وقت بھی دیکھ رہے ہیں، یہ اسلام کا نقص نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کو چھوڑنے کا نتیجہ ہے، رہے وہ لوگ جو سرے سے اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو برابرا سی ظلم وجور کو دہراتے رہے ہیں جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور ان ظالموں کے برے انجام کو سامنے رکھ کر انسانیت کی راہ پر چلنے کی دعوت دی ہے، موجود عہد میں جو علوم وفنون کی ترقی کا دور ہے ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تاریخ کی اس گواہی سے سبق حاصل کیا جاتا، جس کو قرآن کریم نے انسانوں کو ہوشیار ومتنبہ کرنے کے لیے بیان کیا ہے مگر ہو اُس کا الٹا ہورہا ہے ،مجرم وظالم وہی لوگ گردانے جارہے ہیں جو اس حیات کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں جس میں انسانوں کی فلاح وبہبود کا راز پوشیدہ ہے۔
قرآن کریم نے ظالموں اور جابروں کے جس برے انجام کی تصویر کشی کی ہے ،بعد کے عہد میں بھی ہم نے ان ظالموں کے انجام کو دیکھا ہے کہ کتنے ہٹلر ، نیپولین لاکھوں انسانوں کے خون کا بوجھ اپنی گردن میں لے کر گئے اور ملک کے ملک کو تہہ وبالا کردیا، ان کو تھوڑی ڈھیل دی گئی تھی لیکن چھوڑا نہیں گیا، اور آج تو ہمارے سامنے یہ مناظر جلد جلد سامنے آرہے ہیں، مہلت وڈھیل کی مدت بھی جلد جلد ختم ہورہی ہے۔،آج ایک شخص اقتدار وحکومت کی کرسی پر آتا ہے ،ظلم کے بازار گرم کرتا ہے، تھوڑا سا وقفہ نہیں گزرتا کہ وہ عبرت کا سامان بن جاتا ہے۔
ہم بروں کا انجام دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھتے ہیں لیکن ہم پر جاہ ومنصب، مال ودولت کی حرص کاایسا جنون سوار ہوتا ہے کہ اس پر غور ہی نہیں کرتے حالانکہ انسانی بھلائی اور انسانیت کی فلاح اسی میں پوشیدہ ہے۔
ہم اپنے ہی ہاتھوں بڑے بڑوں کو کفن پہناتے ہیں، اور دفن کرتے ہیں مگر اپنے بارے میں مطمئن رہتے ہیں کہ جیسا چاہیں رہیں، جتنا بس چل سکے مال ودولت جمع کرلیں، دادِ عیش دے لیں، ہم کو مرنا نہیں، نہ ہم پر مظلوموں کی آہ وبکا کا کوئی اثر پڑنے والا ہے، ہم آن کی آن میں زلزلہ کے ایک جھٹکے سے شہر کے شہر ویران وبرباد ہوتے دیکھتے ہیں، مگر مطمئن رہتے ہیں، بڑے بڑے لوگوں کو کسی مہلک مرض، ایکسیڈنٹ یا حریفوں اور حاسدوں کی گولیوں سے چھلنی ہوکر ختم ہوجانے اور کبھی کبھی بم کے دھماکوں سے جسموں کے چیتھڑے اڑجانے کے مناظر دیکھتے ہیں، پڑھتے یا سنتے ہیں، مگر اپنے بارے میں مطمئن اور اپنی بے جا روش پر قائم رہتے ہیں۔
جبکہ تاریخ میں ہمیں ایسے انسانیت دوست، رعیت پر مہربان، مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک اور مدد واعانت کی بے شمار مثالیں بھی ملتی ہیں، جن کو محبت وعقیدت سے یاد کیا جاتا ہے اور جن کے انتقال پر ہزاروں انسانوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی فکر وخدمت کرنے والا ایک انسانیت دوست اور انسانوں سے پیار کرنے والا انسان چلا گیا، تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کو انھیں انسانیت دوست لوگوں کو اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے، اگر ایسا کیا جائے اور تاریخی شہادتوں سے سبق لیا جائے تو ہمارے بگڑے ہوئے ماحول میں بہت کچھ سدھار پیدا ہوسکتا ہے۔
*****