اعتکاف ، شب قدر اور عید الفطر

رمضان المبارک ۔رحمتِ خداوندی کاموسم بہار
جون 3, 2017
مدارس عربیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز
جولائی 10, 2017

اعتکاف ، شب قدر اور عید الفطر

اعتکاف ، شب قدر اور عید الفطر
شمس الحق ندوی
ماہِ مبارک کاآخری عشرہ جہنم سے آزادی کاعشرہ ہے، اس مبارک عشرہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بے شمار بندوں کوجوشامت اعمال سے جہنمی ہوچکے ہوتے ہیں، جہنم سے آزاد فرماتے ہیں، اسی عشرہ میںاکیسویں رات سے اللہ تعالیٰ کے خوش نصیب بندے اعتکاف فرمائیںگے،رمضان المبارک کی پرنور گھڑیاں دعا کی قبو لیت کے لیے خصوصی اثررکھتی ہیں۔
ایک روایت میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان میں عرش کے اٹھا نے والے فرشتوں کو حکم فرمادیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑدو،اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو،بہت سی روایات میں رمضان کی دعا کا خصوصیت کے ساتھ قبول ہونا معلوم ہوتاہے،اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایاہے،جوہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ معلوم ہواہے۔
بعض وقت بندہ کسی مقصد کے لیے دعاکرتاہے جب وہ مقصد پورا نہیں ہوتا تو خیال ہوتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوئی،حالانہ اگر رشتہ توڑنے کی دعا نہیں مانگی ہے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے،اس طرح کہ دعا سے یا تو وہی چیز مل جاتی ہے جو بندہ نے مانگا ہے،یا اس کے بد لہ میں کوئی مصیبت دور ہوجاتی ہے،یا آخرت میں اس کا اتنا اجر ملے گا کہ بندہ یہ تمناکرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوئی ہوتی۔
اس مبارک مہینہ میں اعتکاف اور لیلۃ القدر،اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اپنے گناہوں کو معاف کرانے میں خاص اثر رکھتے ہیں،رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرنا فرض کفایہ ہے،یعنی اگر محلہ کے ایک آدمی نے بھی اعتکاف کرلیاتو فرض ادا ہوجائے گا،اور کسی نے بھی نہ کیا تو پورے محلہ اور بستی کے لوگ گنہگار ہوں گے۔
لیکن اعتکاف کی فضیلت اور اس کا اجروثواب اتنا ہے کہ اس کے حاصل کرنے کے لیے اعتکاف کا شوق وجذبہ ہونا چاہیے، نہ یہ کہ فرض کفایہ سمجھ کر ایک دو آدمیوں کے اعتکاف پر قناعت کرلی جائے،اس مبارک مہینہ میں ہرطرف سے کٹ کر سجدہ میں پڑرہنا ایسا ہے جیسے گویا اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر سر رکھدیا کہ جب تک ہماری دعا قبول نہ ہوگی،سر نہ اٹھائیں گے،اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندوں سے پیارہے،جب بندہ اس طرح اس کے در پر پڑتاہے ،تو اس کے انعامات بھی اس پر خوب ہوتے ہیں،لہٰذا اس کا شوق ہونا چاہیے۔
اعتکاف کامقصد اوراس کی اصل ،دل اورروح کواللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ کرلیناہے، اوراپنے کوہرطرف سے یکسو کرکے صرف اللہ پاک کے ذکر، دعا اورالحاح وزاری میں رات دن گذرناہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا عشرہ اپنے رب سے راز ونیاز میںگذارتے تھے، اور صحابۂ کرامؓ کواس کا شوق دلاتے تھے۔
اعتکاف کی انھیںمبارک گھڑیوں میں وہ رات بھی آتی ہے جوہزار راتوں سے بہترہے، اورا س رات کے شروع ہوتے ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام آتے ہیںاوربے شمار فرشتے آسمان سے اترتے رہتے ہیں اورسلام وسکینہ کی یہ روح پرور فضا طلوع صبح تک قائم رہتی ہے ، حضرت ابن عباس ؓکی ایک طویل روایت میںہے کہ: شب قدر میںاللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کوحکم فرماتے ہیں، اوروہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پراترتے ہیں، ان کے ساتھ ایک ہرا جھنڈا ہوتاہے جس کوکعبہ کے اوپرکھڑاکرتے ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے سوبازو ہیں ، جن میں سے دوبازؤوں کو صرف اسی رات کھولتے ہیں، جن کو مشرق ومغرب تک پھیلادیتے ہیں ،اس کے بعد فرشتوں سے فرماتے ہیں، جو مسلمان آج رات کھڑا ہو یابیٹھاہو ،نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کررہاہو،اس کوسلام کریں، مصافحہ کریں، ان کی دعائوں پرآمین کہیں، صبح تک یہی حالت رہتی ہے۔
کوئی حد ہے اس رحمت بے نہایت کی کہ مالک فرشتوں کواپنے ان مؤمن بندوں سے سلام ومصافحہ کاحکم دے رہاہے، پھر بھی ہم اس سے غفلت برتیں تویہ بڑی محرومی کی بات ہوگی، اس مبارک رات کو ذکروتلاوت ،نوافل وتہجد میںگذارنا اور دعا ومناجات میںمشغول رہنااوراپنے گناہوں کی معافی کے لیے رونا گڑگڑانا بڑی سعادت کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن بندوں کونوازنے ہی کے لیے یہ سارے بندوبست کیے ہیں، ان مبارک گھڑیوںسے فائدہ نہ اٹھانا، صرف کھانے پینے اور تفریح بازی میںرات گذاردینابڑی محرومی کی بات ہوگی۔